30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت پیش کی گئی یا عام حالت میں ۔ ‘‘ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناًسمجھدار وہی ہے جو اپنی مختصر سی زندگی میں جنت میں لے جانے والے اعمال کو بجالائے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچے۔جنت میں لے جانے والے اعمال اور جہنم میں لے جانے والے اعمال کی تفصیلی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ان دو کتب ’’ جنت میں لےجانے والے اعمال ‘‘ اور ’’ جہنم میں لے جانے والے اعمال ‘‘ کا مطالعہ فرمائیے۔
اللہ کی رحمت سے تو جنت ہی ملے گی
اے کاش محلے میں جگہ اُن کے ملی ہو
مدنی گلدستہ
’’ علم غیب ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اچھی نیت جنت میں داخلے کاسبب ہے۔
(2) کامل مسلمان تکلیف دہ اشیا کو دور کرنے کی بھر کوشش کرتا ہے۔
(3) راستے سے تکلیف دہ چیزہٹانابھی ایمان کاحصہ ہے۔
(4) راستے کی موذی چیز کو ہٹادینا جائز ہے اگرچہ کسی اور کی ملکیت ہو۔
(5) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے جنتی احوال بھی ملاحظہ فرماتے ہیں ۔
(6) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ صرف جنتیوں کے احوال کو ملاحظہ فرماتے ہیں بلکہ بعطائے الٰہی جنتیوں کے جنت میں جانے کے اَسباب کو بھی جانتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جنت میں لے جانے والے اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جہنمیوں والے اَعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:128
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّاَ فاَحْسَنَ الْوُضُوۡ ءَ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ، فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ، غُفِرَ لَہُ مَابَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّام، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جووضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے گناہ بھی اور جو کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔ ‘‘
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ چونکہ اس ( جمعہ کے ) دن میں تمام مخلوقات وجودمیں مجتمع ہوئی کہ تکمیلِ خلق اِسی دن ہوئی۔نیز حضرت آدم (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع