30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِغُصْنِ شَجَرَۃٍ عَلٰی ظَہْرِطَرِیْقٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَاُنَحِّیَنَّ ہَذَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ لَا یُؤْذِیْہِمْ فَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ. ([1]) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ، فَاَخَّرَہُ فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بے شک!میں نےایک ایسے آدمی کوجنت میں سیرکرتے دیکھا جس نے اس درخت کو کاٹا تھا جو کہ راستے میں تھا اور مسلمانوں کی تکلیف کاباعث تھا ۔ ‘‘ اورایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی ایسے راستے سے گزراجس پر ایک خار دار شاخ تھی۔ وہ کہنے لگا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔پس (اسی وجہ سے) اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی کہیں جا رہا تھا ، راستے میں اسے ایک کانٹےدار شاخ ملی تو اس نے اس شاخ کو راستے سے ہٹا دیا، پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاسے اس کا اجر عطا فرمایا اوراس کی مغفرت فرما دی۔‘‘
عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اس شخص کو جنت میں بڑے ناز سےچلتے ہوئےاورجنت کی نعمتوں سے لطف اندوزہوتے ہوئے دیکھاکیونکہ اس نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جولوگوں کےلیےتکلیف کاباعث تھا۔اس حدیث میں مُوذِی جانوروں کےقتل کرنے اورتکلیف دہ اشیا کو دور کرنے کی بھر پور ترغیب ہےخواہ وہ تکلیف کسی بھی وجہ سے ہو۔ ‘‘ ([3])
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ وہ درخت بیچ راستے میں تھاکنارے پر نہیں تھا۔ ممکن ہے کہ اس شخص کو اچھی نیت کی وجہ سے ہی جنت میں داخل کر دیا گیا ہواور اس نے درخت کاٹا نہ ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ کاٹ دیا ہو ۔ اس درخت کو تکلیف دہ ہونے کی وجہ سے کاٹا گیا جیسا کہ لَا یُؤْذِیْھِمْسے معلوم ہو رہاہے۔ ‘‘ ([4])
مُوذِی چیز کو ختم کردینا جائز ہے:
علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ اس حدیث میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت ہےاوریہ ایمان کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔اوراس حدیث میں ہر اس کام کی فضیلت ہے جو مسلمانوں کو نفع پہنچائے اوران سے تکلیف دور کرے۔ ‘‘ ([5])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی وہ درخت خاردارتھا یا بے خار۔ اس کی جڑ راستہ کے کنارہ پر تھی مگر شاخیں راستہ پر پھیلی ہوئی تھیں ، اس نے تکلیف دور کرنے کے لیے اسے جڑ سے ہی اکھیڑ دیا تاکہ آئندہ بھی شاخیں نہ پھیل سکیں اگر یہ درخت اس کی اپنی ملکیت تھا یا خود روتھا تب تو اس کے کاٹ دینے اور اس کی لکڑی گھر لے جانے پر کچھ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگر کسی غیر کی ملکیت تھا تو اس نے فقط دفع ایذا ء کے لیے کاٹ دیا ہوگا اس کی لکڑی پر قبضہ نہ کیا ہو گا۔ اس صورت میں اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوگا کہ مُوذی (ایذاء دینے والی) چیز کو ختم کردینا جائز ہے اگرچہ دوسرے کی ملکیت ہو۔دیوانہ کتا جو کسی کا پالتو تھا، سرکس والوں کا بھاگا ہوا شیر، سپیروں کا چھوٹا ہوا سانپ ماردیئے جائیں ۔راستے میں کھودا ہواکنواں پاٹ دیا جائے، اس میں مالک کی اجازت کی ضرورت نہیں ۔ حضورِانور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اسے جنت میں یا شب معراج میں دیکھا یا نماز ِکسوف میں جب آپ پر
[1] مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل ازالۃ الاذی عن الطریق، ص،۱۴۱۰ ،حدیث: ۱۹۱۴۔
[2] بخاری، کتاب الاذان ، باب فضل التھجیر الی الظھر،۱ / ۲۳۴، حدیث: ۶۵۲۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴ / ۴۰۳، تحت الحدیث: ۱۹۰۵۔
[4] شرح الطیبی، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ ، ۴ / ۱۲۵، تحت الحدیث: ۱۹۰۵۔
[5] دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۶۸، تحت الحدیث: ۱۲۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع