30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس شخص نے جنگل میں پانی پلایا تھا وہ اس کا اپنا نہیں تھا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ہر جاندارکے ساتھ بھلائی کرنے پرثواب ہے خواہ پانی پلا کر ہو یا کسی اور طرح ۔حدیث میں زندہ جانور کو تر جگر والا کہا گیا ہے کیونکہ مردار کا جسم اور جگر خشک ہوجاتا ہے۔ پس اس حدیث میں ہر اس جانور کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر اُبھارا گیا ہے جسے مارنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ہاں !جن کے قتل کا حکم دیا گیا ہے انہیں قتل کرنا ہی شریعت کی پیروی ہے۔حربی کافر، مرتداور فاسق جانور (یعنی، چوہا، کوا، بچھو، چیل، کاٹنےوالاکتا) اُنہیں قتل کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔ ‘‘ ([2])
مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ترکلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اِس سے مُوذی جانورمستثنیٰ ہیں ۔ لہٰذا سانپ، بچھو، شیروغیرہ کو ماردینا ثواب ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (1) ایک یہ کہ (کبھی) گناہ کبیرہ بغیر توبہ (بھی) معاف ہوسکتے ہیں ۔ (2) دوسرے یہ کہ کبھی معمولی نیکی بڑے سے بڑے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ (3) تیسرے یہ کہ بعض صُوفیاء اپنے ہاں انسانوں کے لنگر کے ساتھ جانوروں کے دانے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں ، اُن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ‘‘ ([3])
مدنی گلدستہ
’’ غوث پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) مخلوق پر رحم کرنےکی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ گناہوں کو بخش دیتاہے۔
(2) ہر جاندار سےبھلائی کرنےپرثواب ہے۔
(3) رحمتِ خدا وندی کی برکت سے بڑے بڑے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
(4) بسا اوقات کوئی چھوٹی سی نیکی بھی بڑےگناہوں کو بخشوادیتی ہے۔
(5) ہرانسان سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(6) رضا ئے الٰہی کے لیے جو بھی نیک کام کیا جائے وہ کبھی رائیگا ں نہیں جاتا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں اپنےمسلمان بھائیوں پرخوب شفقت کرنے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے، نیز ہمیں جانوروں پر بھی رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر: 127
راستےسےتکلیف دہ چیزہٹانےکی فضیلت
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَن النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَقَدْرَاَیْتُ رَجُلًا یَتَقَلَّبُ فِیْ الْجَنَّۃِ فِیْ شَجَرَۃٍ قَطَعَہَا مِنْ ظَہْرِ الطَّرِیْقِ کَانَتْ تُؤْذِی الْمُسْلِمِیْنَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:مَرَّ رَجُلٌ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع