30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ یاغوثِ اَعْظَم ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ دعا تعلیمِ اُمَّت کےلیے ہے ورنہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک گناہ کی رَسائی نہیں بلکہ سب گناہ گاروں کی بخشش آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے ہوگی ۔
(2) مسلمان کی سب سے قیمتی شے اُس کااِیمان ہے ۔لہٰذا ہر وقت اپنے ایمان کے بارے میں متفکر رہنے کے ساتھ ساتھ اِیمان وہدایت پر اِستقامت کی دعا ضرور کرتے رہنا چاہیے۔
(3) حقیقی متوکل صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتا ہے اُس کے غیر کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا۔
(4) ربّ تعالی اور اُس کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے اَسباب اِختیار کرنا توکل ہی ہے۔
(5) اپنے رزق کے بارے میں وسوسوں کا شکارہو کربلا وجہ پریشان وغمگین نہیں ہوناچاہیے، کیونکہ جو رِزق مُقَدَّر میں ہے وہ مل کر رہے گا۔
(6) جو ہم نشین یادِ الٰہی سے دوری کا سبب بنے اُس سے دُور رہنا چاہیے۔
(7) توکل کی دولت اُسے ہی نصیب ہوتی ہے جو مؤمن ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم پر کامل یقین رکھتا ہو۔
(8) جو ذکرِ الٰہی کی وادیوں کے مسافرہوں وہ کبھی بھٹکتے نہیں بلکہ منزل خود اُن کی جُسْتْجُو کرتی ہے۔
(9) دیدارِ الٰہی کی نعمتِ عظمیٰ کے متمنی کو چاہیے کہ اَحکامِ خداوندی بجا لائے ، حرام کاموں سے بچے اور دیدارِ الٰہی کی دعا کرتا رہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے، ہماری مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سَیِّدُنا اِبراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ کا تَوَکُّل
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَیْضًا قَالَ:حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، قَالَہَا اِبْرَاہِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ حِیْنَ اُلْقِیَ فِی النَّارِ، وَ قَالَہَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ قَالُوْا: اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ اِیْمَانًا وَّقَالُوْا:حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:کَانَ آخِرَ قَوْلِ اِبْراہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ حِیْنَ أُلْقِیَ فِی النَّارِ:حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ.([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہی سے مروی ہے، فرماتے ہیں :جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے یہ کلمات کہے:”حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی ا چھا کارساز ہے۔ ‘‘ اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی یہی کلمات کہے جب کفار نے (مسلمانوں سے) کہا کہ (کفار) تمہارے خلاف جمع ہوئے ہیں پس اُن سے ڈرو!تو (یہ سن کر) اُن کے اِیمان بڑھ گئے اور انہوں نے بھی یہی کہا کہ: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘ اور ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا ا بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کے آخری الفاظ یہ تھے: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع