30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبول کرلے توخوشی ومسرت کااظہار کرے۔ اس سے ملاقات ہو تو اس کا شکریہ اداکرے، اور اسے کلی اختیارات دے اگرچہ تحفہ بڑا ہو۔ ‘‘ ([1])
’’ تحفہ ملنے پرخوشی کا اِظہارکرے اگرچہ کم قیمت ہو، تحفہ بھیجنے والے کی غیرموجودگی میں اس کے لیے دعائے خیر کرے۔ملاقات ہو تو خَندہ پیشانی کا مظاہرہ کرے۔ جب موقع ملے تو اسے بھی تحفہ دے۔ حسب موقع اس کی جائز تعریف کرے۔دوبارہ تحفہ وغیرہ لینے کی حرص وطمع نہ کرے۔ ‘‘ ([2])
(1) تحفہ دینے سے محبت بڑھتی اور بغض وکینہ دُور ہوتاہے۔ (2) تحفہ دینے میں ایک دوسرے کی مالی مُعاوَنت ہے۔ (3) جب تحفہ معمولی ہوتو یہ محبت پر زیادہ دلالت کرتا اور باہم تَکَلُّف و تنگی کو دور کرتا ہے۔ (4) قیمتی تحائف کاتبادلہ ہر وقت ممکن بھی نہیں جبکہ معمولی تحائف کا باہم تبادلہ قیمتی تحفہ دینے کی طرح ہی ہے۔ ‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تحائف سے متعلق 4فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دوکیونکہ یہ سینہ کے کینہ کودورکرتاہے۔ ‘‘ ([4]) (2) ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دو اس سے محبت پیداہوگی۔ ‘‘ ([5]) (3) ’’ ایک دوسرے سے مصافحہ کرو اس سے کینہ ختم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو ہدیہ دو اس سے محبت بڑھتی ہے اوربخل ختم ہوتاہے۔ ‘‘ ([6]) (4) ’’ اگرمجھے بکری کےایک پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں اسے قبول کرلوں گااور اگر مجھے بکری کے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اس دعوت میں جاؤں گا۔‘‘ ([7])
مدنی گلدستہ
’’ بقیع ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کم قیمت والی شے کا تحفہ دیناتحفہ نہ دینےسےبہترہے۔
(2) تحفہ دینے سے محبت بڑھتی، بغض وکینہ دور ہوتااور مالی معاونت بھی ہوتی ہے۔
(3) احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکینوں کے ہدیۂ ثواب کو بھی رد نہیں فرماتے ۔
(4) تحفہ لینے کے آداب میں سے ہے کہ تحفہ ملنے پرخوشی ومَسَرَّت کا اِظہارکرے اگرچہ تحفہ کم قیمت ہو نیزتحفہ دینےوالےکاشکریہ بھی اداکرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں خصوصاً تحفہ دینے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
[1] مجموعۃ رسائل امام غزالی ،الادب فی الدین ،ص ۴۱۰ ۔
[2] مجموعۃ رسائل امام غزالی ،الادب فی الدین ،ص ۴۱۰ ۔
[3] عمدۃ القاری،کتاب الھبۃ، باب الھبۃ و فضلھا۔۔۔ الخ،۹ / ۳۷۹، تحت الحدیث: ۲۵۶۶۔
[4] ترمذی،کتاب الولاءو الھبۃ، باب فی حث النبی علی التھادی،۴ / ۴۹، حدیث: ۲۱۳۷۔
[5] الادب المفرد، باب قبول الھدیۃ،ص۱۶۸، تحت الحدیث: ۶۰۷۔
[6] موطاامام مالک ، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی المھاجرۃ ،۲ / ۴۰۷، حدیث: ۱۷۳۱۔
[7] ترمذی،کتاب الاحکام، باب ماجاءفی قبول الھدیۃ،۳ / ۶۶،حدیث: ۱۳۴۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع