30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) ہم سب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق و مملوک ہیں ۔ اس نے ہمیں انسان بنایا، ایمان دیا، حضور نبی آخر الزماں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دامنِ کرم دیا، یہ ہم پر اس کا بہت بڑا کرم واِحسان ہے ۔ اِن تمام نعمتوں کے باوجود وہ ہمیں جنت کی طرف راغب کرنے کے لیے طرح طرح کی نعمتیں بیان فرماکر ہم پر مزید اِحسان فرماتا ہے ۔ یقینا ًاس کا جتنا شکر ادا کیاجائے اتنا ہی کم ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خوب خوب نیکیاں کرنے اور کثرت سے مسجد کی طرف جانے، نمازادا کرنے اورقرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی سعادت عطافرمائے۔پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:124
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ!لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ. ([1])
قَالَ الْجَوْھَرِیُّ:اَلْفِرْسِنُ مِنَ الْبَعِیْرِ:کَا الْحَافِرِ مِنَ الدَّابَّۃِ، قَالَ:وَرُبَّمَا اُسْتُعِیْرَ فِیْ الشَّاۃِ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ اے مسلمان عورتو!کوئی عورت اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ جانے ، اگرچہ وہ بکری کا کُھر ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
علّامہ جوہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا: ’’ فِرْسِناُونٹ کے کُھرکوکہتے ہیں جیسے حَافِردوسرے جانوروں کے کھُر کو کہا جاتا ہے ۔البتہ بسا اوقات بطورِ استعارہ بکری کے کُھر کوبھی فِرسِنکہا جاتا ہے ۔
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ بکری کے کُھر سے حقیقتاً بکری کا کُھر مراد نہیں کیونکہ عام طور پر بکری کا کُھرایک دوسرے کو تحفے میں نہیں دیا جاتا بلکہ اس سے معمولی سی شے مراد ہے۔ مقصودِحدیث یہ ہے کہ پڑوسی کو ہدیہ دینے کے لیے اگر عورت کے پاس معمولی شے کے علاوہ کچھ نہ ہو تو ہدیہ سے نہ رُکے بلکہ حسبِ حال جو میسر ہو دے دیا کرے کیونکہ ہدیہ اپنے پاس موجود شے کے اعتبار سے دیا جاتا ہے اور کسی شے کاپاس ہونا یہ اس شے کے نہ ہونے سے بہتر ہے۔حدیث کی ایک توجیہہ یہ ہےکہ اگر تمہیں کم قیمت معمولی سی شے بھی تحفے میں دی جائے تو اسے حقیر سمجھ کر قبول کرنے سے انکار نہ کرو۔‘‘([2])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ چونکہ چیزوں میں عیب نکالنے کی عادت زیادہ عورتوں میں ہوتی ہے اس لیے انہی سے خطاب کیاگیا۔ یہ حدیث ہم غریبوں کے لیے بڑی ہمت افزاہے کیونکہ اس سے معلوم ہورہاہے کہ خود نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممسکینوں کے معمولی ہدیہ ثواب وغیرہ کو بھی رَد نہیں فرماتے۔ ‘‘ ([3])
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ جسے تحفہ دے رہاہے اس کی فضیلت کومد ِنظررکھے، وہ تحفہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع