30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بظاہرمعمولی سےمعمولی کام بھی جب اَدائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو اس پر اَجر دیاجاتاہے۔
(2) انسان کے اپنے جسم میں اس پر اتنے اِنعاماتِ اِلٰہیہ ہیں کہ جن کا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ سر سے لے کر پاؤں تک ہر آن ، ہر گھڑی وہ اپنے ربّ کی نعمتوں کے حِصار میں رہتا ہے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہم پر یہ بہت کرم واِحسان اور اس کا فضلِ عظیم ہے کہ وہ بظاہر چھوٹے چھوٹے اُمور پر بھی صدقے کا عظیم اجر وثواب عطا فرماتا ہے۔
(4) نماز، طواف، بیمار پرسی، جنازہ میں شرکت، طلبِ علم دین، مسلمانوں کی خیر خواہی ، الغرض ہر نیکی کی طرف اٹھنے والا قدم صدقہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر: 123
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ اَوْ رَاحَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ فِیْ الْجَنَّۃِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد گیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّجنت میں اس کے لیے ہر صبح وشام مہمانی تیار فرمائےگا۔ ‘‘
مسجدمیں بغرض عبادت آنے کی فضیلت:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی وقت مسجد آئےتو مطلقاًاسے فضیلت حاصل ہوگی لیکن یہ فضیلت اسی کے ساتھ خاص ہے کہ جو عبادت کی غرض سے مسجد میں آئے۔ ‘‘ ([2])
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ صبح شام سے مراد ہمیشگی ہے یعنی جو ہمیشہ نماز کے لیے مسجد جانے کا عادی ہوگااسے ہمیشہ جنتی رزق ملے گا۔نُزُلٌاس کھانے کو کہتے ہیں جو مہمان کی خاطر پکایا جائے چونکہ وہ پُر تکلف ہوتا ہے اور میزبان کی شان کے لائق، اس لیے جنتی کھانے کو نُزُلٌفرمایا گیا، ورنہ جنتی لوگ وہاں مہمان نہ ہوں گے، مالک ہوں گے۔ ‘‘ ([3])
مسجد سے متعلق 4فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ مسجدہر پرہیز گا ر کا گھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی رحمت ، رضا اور پل صِرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے۔ ‘‘ ([4]) (2) ’’ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد کی خدمت کرتا اور اسے آباد کرتا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے: ( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) (پ ۱۰، التوبۃ: ۱۸) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اللہ کی مسجدیں وہی آبا د کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایما ن لاتے۔ ‘‘ ([5]) (3) ’’ جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لیے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے ہاں اپنے ہی گمشدہ
[1] مسلم،کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ ، باب المشی الی الصلوۃ۔۔۔ الخ ، ص۳۳۶، حدیث: ۶۶۹۔
[2] فتح الباری، کتاب الاذان ، باب فضل من غدا الی المسجد، ۳ / ۱۲۹، تحت الحدیث: ۶۶۲۔
[3] مرآۃالمناجیح،۱ / ۴۳۳۔
[4] مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، با ب لزوم المسجد، ۲ / ۱۳۴، تحت الحدیث: ۲۰۲۶۔
[5] ترمذی ، کتا ب الایمان ، با ب ماجا ء فی حرمۃ الصلوۃ،۴ / ۲۸۰، تحت الحدیث: ۲۶۲۶ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع