30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث کا معنی یہ ہے کہ انسان کے جوڑ اس کے وجود کی اصل ہیں اور ان سے منافع حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان حرکت کرتا ہے ۔ یہ انسان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت عظیم نعمتیں ہیں ۔ پس جسے نعمت ملے اس پر لازم ہے کہ ہر ہر نعمت کا شکرادا کرےاور صدقہ دے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں پر لطف و کرم فرمایا کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ قرار دیا۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علماءکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ انسان پر صدقہ کرنا واجب یا لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور یہ فرمان عالیِ ترغیب کے لیے ہے۔ ‘‘ ([2])
روزانہ 360 نفلی نیکیاں ضرور کریں :
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ (انسان کے ہرجوڑ کے عوض اس پر صدقہ ہے ) انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ ہمارے یہ جوڑ، انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہوجائے۔ قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی، ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔سُلَامٰیسین کے پیش سے ہے، جس کے لغوی معنی ہیں :عضو ، ہڈی اور جوڑ۔ یہاں تیسرے معنی مراد ہیں ۔انسان کے بدن میں 360جوڑ ہیں ۔اگر چہ ہمارا ہر رونگٹا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مَظْہَر ہے۔ اس لیے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔ صدقہ سے مراد نیک عمل ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر اَخلاقاً دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے۔ اس حساب سے روزانہ تین سو ساٹھ360 نیکیاں کرنی چاہیئں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو۔ سورج چمکنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہر شخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہر شخص پر ہے۔تہذیبِ اَخلاق، تدبیرِ منزل، سیاستِ مدنی، لوگوں سے اچھے برتاؤ صدقہ ہیں بشرطیکہ رضائے الٰہی کے لیے ہوں ۔ہر معمولی سے معمولی کام جب ادائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا، کیونکہ منسوب اگر چہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے (یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم) صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وہ تو بڑے ہیں ۔ (نماز کے لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے) نماز کا ذکر مثالاً ہے ورنہ طواف، بیمار پرسی، جنازہ میں شرکت، علم دین کی طلب غرضکہ ہر نیکی کے لیے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔ رستہ سے کانٹا، ہڈی، اینٹ، پتھر، گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔ ‘‘ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُسْنِ نیت اوراِخلاص کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کےلیےجوبھی نیک عمل کیاجائے وہ عبادت ہے ان میں سے بعض فرض وواجب ہیں جن کوادا کرناانسان پر لازم ہے جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃوغیرہ کہ ان کی ادائیگی پر بندے کواجروثواب سے نوازاجاتاہےاور ان کے ترک کرنے پر عذاب وعتاب کی وعیدہے۔اور بعض عبادتیں نفل ومستحب ہیں کہ ان کی ادائیگی پر ثواب ہے لیکن ان کے ترک پر عذاب نہیں ۔جیساکہ دومسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنا، کسی کوسواری پر سوار کرنا، اچھی بات کہنا اور مسجد کی طرف قدم اٹھانا وغیرہ۔ان تمام کے ذریعہ ربّ عَزَّوَجَلَّکی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔لہٰذا عقل مند کو چاہیے کہ فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات بھی بجالائے۔
مدنی گلدستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع