30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ حبیب ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مسلمانوں کا آپس میں خندہ پیشانی سے ملنا شریعت کومحبوب ہے، اس پر اَجر دیا جاتا ہے اور یہ آپس میں اُنسیت، محبت اور اُخوَّت کا پیش خیمہ ہے۔
(2) کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے وہ نیکی رضائے الٰہی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اس کی وجہ سے مغفرت کا پروانہ جاری ہوجائے۔
(3) ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا چاہیےکہ ہوسکتا ہے وہی چھوٹاگناہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اسی پر پکڑ ہوجائے۔
(4) رضائے الٰہی کے طلب گار نیکیوں کے ثواب سے زیادہ رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھتے ہیں وہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑتے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے محبوب حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل اَعمالِ صالحہ بجالانےاور گناہوں سے بچنےکی توفیق عطافرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :122
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَامَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ([1])
رَوَاہُ مُسْلِمٌ اَیْضًامِنْ رِوَایَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ اِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّيۡنَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْشَوْكَةً اَوْ عَظْمًاعَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْاَمَرَ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ السِّتِّيۡنَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ ، فَاِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ انسان کے ہرجوڑ کے عوض ہر دن جس میں سورج چمکے اس پر صدقہ ہے، دو شخصوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے، کسی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کے لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ‘‘
امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث پاک کواُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی روایت سے بھی بیان کیا ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بنی آدم کو تین سو ساٹھ360 ہڈیوں پر بنایا گیا۔پس جس نے اللہ اکبر کہا ، یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد بیان کی ، یا لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا، یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان کی، یا اِسْتِغْفَارپڑھا، یا راستے سے پتھر ہٹایا، یاکسی کانٹے یا ہڈی کو راستے سے ہٹایا، یا نیکی کی دعوت دی یا بُرائی سے منع کیااور یہ تعدادتین سو ساٹھ تک پہنچ گئی تو اس دن ایسا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیا۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع