30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُنسیت اور خوف و وحشت سے دُور ی ہے اور اِس سے آپس میں وہ اُلفت حاصل ہوتی ہے جو ( شریعت کو ) مطلوب ہے۔ ([1])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :”مسلمانوں سے خوشی و مسرت کے ساتھ ملنا بھی نیکی ہے کیونکہ یہ سامنے والے کے دل میں خوشی پیدا کرتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کے دل کو خوشی پہنچانا نیکی ہے۔ ‘‘ ([2])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حقیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچا لیتا ہے اور کوئی گناہ حقیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر پھونک دیتی ہے۔اِن کا ماخذ یہ حدیث ہے، مسلمان بھائی سے خوش ہو کر ملنا، اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے اور مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔ ‘‘ ([3])
حضرتِ سَیِّدُنَا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ تمہارا لوگوں کو گرم جوشی سے سلام کرنا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘ ([4])
آقائے دو جہاں ، سرورِ کون ومکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اپنےبھائی سے مسکرا کرملنا تمہارے لیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا صَدَقہ ہے۔ ‘‘ ([5])
بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنت ہے:
شیخ طریقت، امیرِاہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ’’ بیان کردہ حدیثِ مبارکہ میں مُسکر ا کر ملنے، نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا۔سُبْحٰنَ اللہ ! مُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مسکر اکرملنا، مسکرا کر کسی کو سمجھانا عُمُومًا نیکی کی دعوت کے مدنی کام کو نہایت سَہل و آسان بنا دیتا اور حیرت انگیز نتائج کا سبب بنتا ہے۔جی ہاں !آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مدنی انقلاب برپا کر سکتی ہے اور ملتے وَقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھردیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دل توڑ کر اُس کو مَعاذَاللہ گمراہی کے گہرے گڑھے میں گر اسکتا ہے۔لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں ، گفتگو کریں اُس وَقت حتی الامکان مُسکراتے رہیے۔اگر خُشک مزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کےلیے خوب کوشش کیجئے، بلکہ مُسکرانے کی عادت پکی کرنے کےلیے ضَرورتًا کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے بات کرتے ہوئے آپ کا منہ پھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کرواتے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دکھا دیاکرے: ’’ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔ ‘‘ جی ہاں واقعی یہ سنَّت ہے۔
چنانچِہ منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سیِّدُناابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے، جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: ’’ میں نے حُسن اخلاق کےپیکر، ملنساروں کے رہبر، غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دَورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے۔ ‘‘ ([6])
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
[1] دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۵۶، تحت الحدیث: ۱۲۱۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴ / ۳۹۶، تحت الحدیث: ۱۸۹۴۔
[3] مرآۃالمناجیح،۳ / ۹۶۔
[4] جامع العلوم والحکم،ص۲۹۶، تحت الحدیث الخامس والعشرون۔
[5] ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ما جاء فی صنانع المعروف،۳ / ۳۸۴ ،حدیث: ۱۹۶۳۔
[6] مکارم الاخلاق للطبرانی،ص۳۱۹،حدیث: ۲۱،نیکی کی دعوت،ص۲۴۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع