30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذوالقرنین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’ میں نے تمہاری مثل کوئی قوم نہیں دیکھی اور اگر میں نے کسی شہر کو وطن بنانے کا اِرادہ کیا تو تمہارے حُسنِ معاشرت اور اَخلاقِ جمیلہ کی وجہ سے اِس شہر کو وطن بناؤں گا۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
’’ اِیمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ایمان تمام اعمالِ صالحہ کی بنیادہےاس کے بغیرکوئی بھی نیک عمل قابل قبول نہیں ۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں وہ چیز صدقہ کرنی چاہیےکہ جوعُمدہ اور قیمتی ہو۔
(3) اَعمال کی افضیلت حالاتِ زمانہ اور لوگوں کی حالت کے اِعتبار سےمختلف ہوتی ہے ۔
(4) انسان کو جو نیکی میسر آئے اُسے فوراً کر لے ، سستی کی وجہ سےہر گز ترک نہ کرے ۔
(5) کسی بے ہنر محتاج کی بہترین اور مستقل مدد یہ ہے کہ اسے کوئی اچھاہنر سکھا دیا جائے تاکہ کام کاج کرکے خود بھی محتا جی سے بچے اور عیال دار ہو تواپنے عیال کو بھی محتاجی سے بچائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اَعمال صالحہ کرنے اور صالحین کی صحبت اختیارکرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہم سب کاخاتمہ اِیمان پر فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:118
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّاَیْضًارَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یُصْبِحُ عَلَی کُلِّ سُلَامَی مِنْ اَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ، فَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَکْبِیْرۃٍصَدَقَۃٌ، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَیُجْزِءُ مِنْ ذَلِکَ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُہُمَا مِنَ الضُّحَی. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےہی مروی ہے کہ رسول ِاکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم میں سے جو شخص صُبح کرتا ہے اس کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ تو ہر سُبْحَانَ اللہ صدقہ ہے اور ہراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ صدقہ ہے اورہر لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ صدقہ ہے اور ہر تکبیر اَللہُ اَکبَرصدقہ ہے اور نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنابھی صدقہ ہےاوران سب کی طرف سے چاشت کی دو۲رکعتیں کفایت کرتی ہیں ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں بھی نیکیاں کمانے کا کتنا آسان طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَر کہتے رہیں اور خوب ثواب کماتے رہیں اور چاشت کےوقت کی دو2 رکعتیں اِن تمام اَذکار کے برابر ہیں ۔سُبْحَان اللہ!دین ِاسلام میں نیکیاں کمانا کتنا آسان ہے۔اللہعَزَّ وَجَلَّہمیں نیکیوں سے محبت عطا فرمائے، خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
دلیل الفالحین میں ہے :حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا : ’’ تم میں سے جو صبح کرے، اس کے ہرعضو یعنی ہر ہڈی اور جوڑ پرصدقہ ہے۔ ‘‘ جب وہ آفات سے سلامتی کے ساتھ صبح کرے اور ایسی حالت میں ہو کہ اپنے تمام اَفعال و منافع مکمل کر سکے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےبندے کو آفات و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع