30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بھلائی کے طریقوں کی کثرت کابیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام دینِ فطرت ہے۔یہ سارے کا سارا حق وصداقت پر مبنی ہے۔ تمام نبیوں کے سالار، نبیِ احمدمختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زند گی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کی ایسی رہنمائی فرمائی کہ دین اسلامپر عمل کر کےبارگاہِ الٰہی سے بے پایاں رحمتیں حاصل کرنا اِنتہا ئی آسان ہوگیا۔ اسلام میں بھلائی کے طریقے ا تنے کثیر ہیں کہ اگر ان پر چلا جائے تو روز مرہ کا کوئی بھی عمل نیکیوں سے خالی نہیں رہ سکتا ۔ کُتُبِ احادیث میں بھلائی کے یہ طریقے جا بجا روشن ستاروں کی طرح جگمگارہے ہیں ۔ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ بھلائی کے طریقوں کی کثرت ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس باب میں عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے4آیاتِ مقدسہ اور 25احادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ۔ پہلے آیات مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
(1) ربّ تعالٰی ہر بھلائی کو جانتا ہے
فرمانِ باری تعالٰی ہے:
وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ (۲۱۵) (پ۲، البقرۃ :۲۱۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اورجو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ کا آخری جزء ہے، پوری آیت مبارکہ یوں ہے:
یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ (۲۱۵) (پ۲، البقرۃ :۲۱۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
تفسیر ِ خازن میں ہے: ’’ اور تم اپنے والدین، قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، راہ گیروں اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سےجو بھی بھلائی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کے لیے کرو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے باخبر ہے اور وہ تم کو اس کی جزا ءدے گا۔ ‘‘ ([1])
تفسیر نعیمی میں ہے: ’’ خیر سے ہر نیک کام مراد ہے۔ صدقات، خیرات، نماز، روزے، حج، مسافر خانےاورمسجدیں بنانا وغیرہ یعنی اورجو کچھ بھلائی کروگے اللہ اس کو جانتاہے بے خبر نہیں ۔ بقدرِاخلاص ثواب عطافرمائے گا۔اے نبیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم! آپ سے خرچ کرنے کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں ؟ تو اِنہیں دونوں سوالوں کا جواب دے دو کہ اپنی ضرورت سے بچاہوا مال راہِ الٰہی میں خرچ کرو، صحیح جگہ خرچ کرو، غلط مَصْرَف پر خرچ کرنا فضول یا نقصان دہ ہے ۔لہٰذااپنے ماں باپ کو دو کیونکہ انہیں کے دم سے تم دنیا میں آئے ۔اپنے قرابت داروں کودوکیونکہ ہرشخص کواپنے قرابت داروں کے حال کی زیادہ خبر ہوتی ہے۔اگر تمہارے قرابت داردوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں تو اس میں تمہاری بھی ذلت ہے، بہتر ہے کہ تمہاری ضرورتیں آپس میں ہی پوری ہوجایاکریں ۔لاوارث ، غریب، یتیموں کو بھی دو، کیونکہ ان کاوالی وارث کوئی نہیں ، جو ان کی حاجتیں پوری کرےاور نہ وہ خودکمانے پرقادر ہیں اور مسکینوں اور راہ گیروں کو بھی دوتاکہ اُن کی فوری ضرورتیں پوری ہوجائیں ، اس پر ہی کیا موقوف ہے۔جہاں تک ہوسکے ہر بھلائی کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع