30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھا ر ی ہے۔ ‘‘ پوچھا: ’’ کیا مہر ہے ؟ ‘‘ کہا: ’’ تو دینِ اسلا م چھوڑ کر عیسائی ہو جا ۔ ‘‘ چنانچہ اس نے عیسائی مذہب اختیار کر کے اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے دو بچے بھی ہوئے پھر وہ بد نصیب انہیں یتیم چھوڑ کر عیسائی مذہب پر مر گیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اس کے ساتھیوں کا وہاں گز ر ہوا تو دریافت کرنے پر بتایا گیا وہ عیسائی ہو گیا تھا، عیسائیت پر ہی مرا اور اسے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ وہ اس کی قبر کے پاس گئے تو وہاں ایک عورت اور دو بچوں کو قبر پر روتے ہوئے پایا۔وہ دونوں بھی رونے لگے۔عورت نے ان سے پوچھا: ’’ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے اس کی عبادت، نماز، اور زہد کا تذکرہ کیا۔ جب عورت نے یہ سنا تو اس کا دل اسلا م کی طرف مائل ہوگیا اور وہ اپنے دونوں بچوں سمیت اسلا م لے آئی۔
حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابومحمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’ سُبْحَانَ اللہ! کتنے تعجب کی بات ہے کہ جومسلما ن تھا وہ کا فر ہو کر مرا اور جو عورت کافر ہ تھی وہ اپنے بچوں سمیت اسلام لے آئی۔ پس ہرمسلما ن کو چا ہیے کہ اپنے انجام سے ڈر تا رہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسنِ خا تمہ کا سوال کرتا رہے۔ ‘‘ ([1])
ربّ تعالٰی کی خفیہ تدبیر :
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے اور ہمارے علاقے میں ایک نہایت غمگین شخص تھا جسے ’’ قَضِیْبُ البَان ‘‘ کہا جاتا تھا۔ احترام اور رُعب ودبدبہ کے باعث کوئی اس سے کلام کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ رویا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس کے پاس گیا اور پوچھا: ’’ اے میرے محترم! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی ذات کے سوا ہر چیز سے بے نیاز کر دیا ہے! آپ کے غم اور تنہائی کاسبب کیاہے؟ ‘‘ اس نے مجھے دیکھا اور بہت زیادہ رویا پھر اس کارنگ متغیر ہو گیا۔ کچھ اضطراب کے بعد اس پر غشی طاری ہو گئی۔ مجھے گما ن ہوا کہ وہ انتقال کرگیا ہے۔پھراسے ہوش آگیا تومیں نے کچھ باتیں کر کے اسے مانوس کرلیا اور قسم دے کر اس کا حا ل دریافت کیا۔ چنانچہ اس نے روتے ہوتے اپنا واقعہ کچھ یوں بیان کیا :
میں اپنے شیخ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بہت نیک شخص تھااور لوگوں میں ولی مشہور تھا۔میں نے چالیس سا ل اس کی خدمت کی۔ وفات سے تین دن پہلے اس نے مجھ سے کہا: ’’ میرے بیٹے ! میراتجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے، میری بات غور سے سن، میں جو وصیت کروں اس کا پورا کرنا تجھ پر لازم ہے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ محبت اور عزت سے وصیت پوری کروں گا۔ ‘‘ کہا: ’’ میری عمر کے تین دن باقی ہیں اور میرا خاتمہ کفرپر ہوگا۔ ‘‘ جب میں مر جاؤں تو مجھے میرے کپڑوں سمیت رات کی تاریکی میں ایک تابوت میں رکھ کر شہر سے باہر فلاں جگہ لے جا نا اورطلوعِ آفتاب تک وہیں ٹھہرنا، وہاں ایک قافلہ آئے گا جن کے پا س ایک تابوت ہوگاوہ اس کو میرے تابوت کے پہلو میں رکھ دیں گے اور میرا تابوت لے جائیں گے تم وہ دوسراتابوت لے کر واپس آجانا۔ پھراس تابوت کوکھول کر اس میں موجود شخص کو نکالنا اور عزت واحترام سے اس کی تجہیز وتکفین کرنا ۔ ‘‘ یہ سن کر میں بہت غمزدہ ہوا اور روتے ہوئے اس افسوس ناک معاملے کی وجہ دریافت کی ۔ اس شیخ نے کہا: ’’ میرے بیٹے!یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھا ہواہے۔جو ہو چکا اور جوکچھ ہو گا سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے ہے۔ (لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ ) (پ ۱۷، الانبیاء:۲۳) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اس سے نہیں پو چھا جا تا جو وہ کر ے ۔ ‘‘ جب تین دن گزر گئے تو میرا شیخ مضطرب ہوگیا، رنگ متغیر ہو گیا اوراس کا چہرہ سیاہ ہو کرمشرق کی طرف گھوم گیا اور وہ اوندھے منہ گر کر مر گیا۔ میں بہت رویا اور مجھے ایسا غم لاحق ہوا جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھرمیں حسب وصیت اس کاتابوت لے کر اس مقام پر پہنچ گیا جو اس نے بیان کیا تھا ۔
صبح ہوئی تو کچھ لوگ وہاں گریہ وزاری کرتے ہوئے آئے، ان کے پاس ایک تابوت تھا، انہوں نے اپنا تابوت شیخ کے تابوت کے پاس رکھ دیا۔پھرایک شخص آگے بڑھا اور شیخ کاتابوت اٹھا کر جانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: ’’ جب تک مجھے اپنے متعلق نہ بتاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ اس نےبتایا: ’’ اس تابوت میں ایک عیسائی پادری کی لاش ہے ۔ میں چا لیس سال تک اس کا خا دم رہا ہوں ۔ اس نے موت سے تین دن قبل مجھے بلا کر کہا: ’’ میرے بچے ! میراتجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے۔میں تین دن بعد مر جاؤں گا، تو مجھے ایک تابوت میں رکھ کرفلاں جگہ لے جانا، وہا ں بھی ایک تابوت ہوگا ۔ میرا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع