30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری سے پہلے عرب قبائل کے وُفُود بکثرت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر دین اِسلام کے اَحکام سیکھنے لگے، اُن کی رہنمائی کے لیےقرآن نازل ہوتا رہا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُنہیں اَحکامِ شرعِیَّہ سکھاتے رہے ۔
(2) قرآنِ کریم میں دینا وآخرت میں کامیابی کے بہترین اُصول موجود ہیں ، اُن پر عمل کرنے والا دونوں جہاں میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمقبول بندے جب عمر کے آخرے حصے میں پہنچ جاتے ہیں تو ان کی عبادات و ریاضات مزید بڑھ جاتی ہیں ۔
(4) سمجھ دار اورکامیاب شخص وہی ہےجو آنے والے وقت سے پہلے اس کی تیاری کر لے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
یا خدا میری مغفرت فرما………باغِ فردوس مرحمت فرما
دین اسلام پر مجھے یاربّ………استقامت تو مرحمت فرما
تو گناہوں کو کر معاف اللہ………میری مقبول معذرت فرما
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:116
زندگی کے آخری لمحات کی اَہمیَّت
عَنْ جَابِرٍ رَضِیِ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر شخص اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس پر وہ مرا ۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ہر شخص اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس پر وہ مرا۔یہا ں تک کہ بانسری بجانے والا اِس حالت میں اٹھایا جائےگا کہ اُس کے ہاتھ میں بانسری ہوگی۔حدیث مذکور میں اِنسان کو اَعمالِ صالحہ کی پابندی ، تمام اَحوال میں سنتِ رسول کی پیروی اور تمام اَفعال واَقوال میں اِخلاص کو مدّنظر رکھنے پر اُبھارا گیاہے، تاکہ اچھی حالت میں موت آئے اور بروزِ قیامت اچھی حالت میں اٹھا یا جائے۔ مصنف یعنی علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا اِس باب کو اِس حدیث پر ختم کرنا کمالِ حسن ہے کیونکہ یہ حدیث اَعمال صالحہ اور زندگی کے تمام اوقات میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے پر ابھارتی ہے کیونکہ موت کسی بھی وقت آسکتی ہےاورآخری عمر، بڑھاپے اور حالتِ مرض میں تو موت کا اِمکان مزید بڑھ جاتا ہے ۔ ‘‘ ([2])
آخری کلام جنت میں داخلے کا سبب:
میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس حدیث پاک میں فرمایاکہ جس حالت میں انسان مرے گااسی حالت میں قیامت والے دن اٹھایا جائے گا۔اس حدیث کی شرح سنن ابو داود کی اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس کا آخری کلام لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ ہو گاوہ جنت میں جائے گا۔ ‘‘ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع