30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور کےاِسْتِغْفَار فرمانے کی وجہ:
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں اور اُن سے گناہ کا صدورمُتَصَوَّرنہیں ۔ تو پھرحضورِ اَکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جوتمام نبیوں کے سرداراور سَیِّدُ الْمَعْصُوْمِیْن ہیں ، اِسْتِغْفَار کیوں فرماتے تھے؟ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِسْتِغْفَارفرمانا اِظہارِ بندگی اور بارگاہِ خداوندی میں عاجزی وانکساری کے لیے تھا۔‘‘([1])
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا اپنے لیے دعائے بخشش کرنا تعلیم ِاُمَّت کے لیے تھا، یا اس لیے کہ اِسْتِغْفَاربھی عبادت ہے اور بلندی درجات کا ذریعہ۔ورنہ آپ گناہوں سے معصوم ہیں ۔ ‘‘ ([2])
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری مغفرت فرما۔ ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اعلیٰ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے جو کام خلافِ اَولیٰ ہیں ، انہیں معاف فرما ، اگر چہ حقیقت میں وہ گناہ نہیں ۔ کیونکہ انبیائے کرام گناہوں سے مطلقاً پاک ہیں ۔ ‘‘ ([3])
نوٹ:سرکارِ دوعالم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِسْتِغْفَارفرمانے کی مزید توجیہات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۵۶صفحات پر مشتمل کتاب ’’ فیضان ریاضُ الصَّالحین“ جلد اول صفحہ 167کا مطالعہ فرمائیے۔
تفسیرِکبیر میں ہے: ’’ جب کسی مسافر کی روانگی کا وقت قریب آتاہے تو وہ اپنے سفر کی تیاری کرتاہے ۔ اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جب عقل مند شخص کی موت کا وقت قریب آتا ہےتو وہ کثرت سے توبہ کرتاہے۔ ‘‘ ([4])
تسبیح واستغفار سے متعلق چند احادیث:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ اس حدیث پاک میں تسبیح و استغفار کا بیان ہے اس لیے ان سے متعلق چند احادیث ِمبارکہ ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ خاتمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، جنابِ صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بے شک!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال کو یاد کرنے کے لیے تم جوتسبیح (سُبْحَانَ اللہِ) وتہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ) اور تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ) کرتے ہو وہ عرش کے گرد گھومتی ہیں ، ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طر ح ہوتی ہے اوریہ اپنے پڑھنے والوں کا تذکرہ کرتی ہیں ۔“ (پھر فرمایا:) ’’ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہارا تذکرہ ہمیشہ ہوتا رہے ؟ “ ([5])
حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حَصِینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ اُحُد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! روزانہ اُحد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت کون رکھ سکتاہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تم میں سے ہر ایک اس کی طاقت رکھتا ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ وہ کیسے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ سُبْحَانَ ﷲ، لَااِلٰہ اِلَّاﷲ،
[1] شرح مسلم للنووی،کتاب الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ۲ / ۲۰۲، الجزء الرابع ۔
[2] مرآۃ المناجیح، ۲ / ۷۰۔
[3] دلیل الفالحین، باب فی الحث علی الازیادمن الخیر، ۱ / ۳۴۳، تحت الحدیث: ۱۱۴۔
[4] تفسیر کبیر، پ۳۰، النصر ، تحت الایۃ: ۳ ،۱۱ / ۳۴۶۔
[5] ابن ماجۃ، کتا ب الادب، باب فضل التسبیح، ۴ / ۲۵۳، حدیث: ۳۸۰۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع