30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ :اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) (یعنی سورۂ نصر) نازل ہونے کے بعد حضورنبی کریم، رؤف ورحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں یہ کلمات نہ پڑھے ہوں : ’’ سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ یعنی اے ہمارے ربّ !تجھے پاکی ہے اور حمد تیرے لیے ہی ہے، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تومیری مغفرت فرما۔ ‘‘ صحیحین کی ایک اور روایت میں اُم المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمقرآنِ پاک پرعمل کرتے ہوئے اپنے رکوع وسجود میں کثرت سےیہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ’’ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ اے ہمارے ربّ !تجھے پاکی ہے اور حمد تیرے لیے ہی ہے، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تومیری مغفرت فرما۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصالِ ظاہری سے قبل یہ کلمات کثرت سے پڑھا کرتے تھے: ’’ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَیعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!تجھے پاکی ہے! اور حمد تیرے لیے ہی ہے، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اورتیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کلمات کیا ہیں ؟ میں دیکھتی ہوں آپ اب یہ پڑھنے لگے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ میرے لیے میری اُمَّت کے بارے میں ایک نشانی قائم کی گئی ہے کہ جب میں وہ نشانی دیکھوں تو یہ کلمات کہوں ۔ (اور وہ نشانی یہ سورت ہے:) ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) ...الخ۔
مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کثرت سے یہ کلمات پڑھتے تھے: ’’ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہےاور میں اُس کی حمد کرتا ہوں ، اُس سےمغفرت چاہتا ہوں اوراُس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ اُمَّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کثرت سے یہ کلمات پڑھتے ہیں : ’’ سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ مجھے میرے ربّ نے خبر دی ہے کہ عنقریب میں اپنی اُمَّت میں ایک نشانی دیکھوں گا، جب وہ نشانی دیکھوں تو ان کلمات کی کثرت کروں : ’’ سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہپس میں وہ نشانی دیکھ چکا ہوں ہے۔ (اور وہ نشانی یہ سورت ہے:)
( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ (۲) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) (پ۳۰، سورۃ النصر)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے ربّ کی ثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
عمدۃُالقاری میں ہے:حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حالت ِنما ز اور وہ بھی رکوع وسجود میں یہ کلمات اس لیے پڑھتے تاکہ حکم قرآنی کو اَحسن انداز سے بجا لا ئیں کیونکہ حالتِ نماز دیگر حالتوں سے افضل ہے اور رکوع وسجود میں دیگر اَرکان کی نسبت زیادہ عجزوانکساری ہے ۔ ‘‘ ([1])
مِرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ وفات شریف کے قریب جب یہ آیت کریمہ اتری: ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-) تو آپ نوافل خصوصاً تہجد کے رکوع، سجدے میں یہ پڑھا کرتے تھے، ظاہر یہی ہے کہ یہ دعائیں نوافل میں تھیں ، کیونکہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرائض مسجد میں پڑھاتے تھے، اس وقت عائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) آپ سے بہت دور ہوتی تھیں ۔ ہاں !تہجد وغیرہ نوافل گھر میں پڑھتے تھے اس لیے آپ بخوبی یہ سب کچھ سن لیتی تھیں ۔ ‘‘ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع