30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے مجھے اپنے سینے سے چمٹا یا اور پھر دعا کی: ’’ یا اللہعَزَّ وَجَلَّ! اسےعلم وحکمت عطا فرما ۔ ‘‘ ([1])
(2) رسول اللہ کی خدمت گزاری:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکی مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےلیے وضو کا پانی رکھ دیا۔ واپسی پرآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے پوچھا کہ ’’ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟ ‘‘ بتایا گیا کہ ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے۔تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے لیے دعا کی : ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اسے دین کا فقیہ بنادے۔ ‘‘ ([2])
(3) اُمَّت محمدیہ کے بڑے عالم:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی بارگاہ ِاقدس میں حاضر ہوا ، سَیِّدُنَاجبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَامبھی حاضر خدمت تھے۔ سَیِّدُنَا جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ بے شک یہ (ابن عباس) اِس اُمَّت کے حِبْر ( یعنی بڑے عالم ) ہوں گے۔آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمانہیں خیر وبھلائی کی وصیت فرمائیے۔ ‘‘ ([3])
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےمروی ہے کہ ایک مرتبہ دوعالم کے مختار مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکےلیے یوں دعا فرمائی: ’’ یااللہعَزَّ وَجَلَّ! اس کے علم میں برکت عطا فرما اور اس سے علم پھیلا۔ ‘‘ ([4])
ایک مرتبہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے سرپر دستِ شفقت رکھ کر یوں دعاکی: ’’ یااللہعَزَّ وَجَلَّ!اسےعلم وحکمت عطا فرمااور تاویل کے علم سے نواز ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے اپنا دست اَقدس اُن کے سینے پر رکھا جس کی ٹھنڈک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی پشت میں محسوس کی ، پھر فرمایا: ’’ یااللہعَزَّ وَجَلَّ! علم وحکمت سے اس کا سینہ بھر دے۔ ‘‘ اِس دعا کے بعدانہیں لوگوں کے کسی مسئلے میں گھبراہٹ محسوس نہ ہوئی۔جب تک حیات رہے اِس اُمَّت کے سب سے بڑے عالم رہے۔ ([5]) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
[1] بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہ، ۲ / ۵۴۸، حدیث: ۳۷۵۶۔
[2] بخاری، کتاب الوضو، باب وضع الماء عند الخلاء، ۱ / ۷۳، حدیث: ۱۴۳۔
[3] حلیۃالاولیاء، عبد اللہ بن عباس ،۱ / ۳۹۱۔
[4] حلیۃالاولیاء ، عبد اللہ بن عباس،۱ / ۳۹۰۔
[5] معجم کبیر، من مناقب عبد اللہ بن عباس، ۱۰ / ۲۳۷، حدیث: ۱۰۵۸۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع