30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے اور سب لوگ سو جاتے ہیں تو ربّ ِکائنات عَزَّ وَجَلَّ ان پر تجلِّی فرماتا اورپردے اُٹھا دیتاہے۔اوراس کے محبوب بندے ایسے جہاں کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس کاتصورکسی کی عقل میں آیا، نہ کسی کے ذہن میں اس کا خیال گزرا۔ اے عقل مندو!ذرا غورتوکروکہ اَخروٹ اور اس کے چِھلکے کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے، دلوں کی ٹہنیوں کو حرکت دینے والے اورحضرت سَیِّدُنَا یعقوب و یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملانے والے نے مجھے یہاں بیٹھنے کا اس لیے حکم فرمایا ہے تاکہ وہ تمہارے گناہوں اور نافرمانیوں کو بخش دے اور عفوورضا کی دولت کا تاج تمہارے سرپررکھ دے، ماضی کے گناہوں کو مٹادے، مجرموں سے درگزر فرمائے اور دُھتکارے ہوؤں اور نافرمانوں کی توبہ قبول فرمائے۔ ( غورکرو!) حقیقی محبوب موجود ہے۔ وہ تمہیں دیکھ رہا ہےاور مصیبت تم سے ٹال دی گئی ہے، تو کیا تم میں توبہ کا عَزْمِ مُصَمَّمْ کرنے والا کوئی نہیں ؟ بے شک!صلح کے جام تمہارے اِردگرد گُھوم رہے ہیں اورتم پرسخاوت کی ہوائیں چل رہی ہیں ۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا مَنصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ میرا کلام و بیان ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ نشے میں مدہوش ایک نوجوان ہاتھ میں شراب سے بھراپیالہ لیے میرے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: ’’ اے ابن عمار! بتائیے! کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس حالت میں بھی قبول فرما لے گا ؟ ‘‘ میں نے کہا کہ اے میرے دوست! ضرورقبول فرمائے گا وہ خود قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ (پ۲۵، الشوریٰٰ: ۲۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا۔
یہ سن کرنوجوان نے شراب کاجام پھینکا اورحیران وسرگرداں باہرنکل گیا۔وہ خواب غفلت سے بیدار ہو چکا تھا ۔ پھر نشے میں چُور ایک بوڑھا شخص ہاتھ میں طنبورہ (ایک قسم کا باجا) لیے کھڑا ہوااور کہنے لگا: ’’ اے ابن عمار! کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کی توبہ قبول فرمائے گا جس کی تمام عمر نافرمانی اور گناہوں میں ضائع ہو گئی ہے؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اےمحترم! وہ ضروربخشے والا ہے۔کیونکہ وہ خود ارشاد فرماتاہے:
وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ (پ۱۶، طہ: ۸۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اوربے شک میں بہت بخشنے والا ہوں ۔
اس نے توبہ کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے اوران کے لیے رحم و کرم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ‘‘ بوڑھے شرابی نے میرا کلام سنا تو طنبورہ پھینک دیا، اور غمگین حالت میں جدھر رُخ تھا اُدھرنکل گیا، وہ بھی غفلت کی نیند سے بیدار ہو چکا تھا۔ ([1])
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔آمین)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے! ہم بھی توبہ کرلیں ، اپنے گناہوں پر رولیں ، یہ رونے کا ہی مقام ہے۔آئیے!اپنی محرومی کے بارے میں گریہ و زاری کرلیں ، شاید یہ رونا اور گریہ وزاری کرنا ہمارے کام آجائے، بالوں کی سفیدی پیغامِ اَجل دے رہی ہے، اے جوانی سے بڑھاپے تک عبادت و ریاضت میں پیچھے رہ جانے والے! قافلہ کوچ کرچکا ہے، تیرا دن تلاشِ معاش میں اور رات خوابِ غفلت میں گزرتی ہے، تونے جوانی کی بہاریں یونہی غفلت میں گزاردیں ، نا فرمانیوں کی خزاں چھاگئی ہے، اگر تو اب بھی نادم ہوکر توبہ کرلے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بڑا غفور ورحیم اور معاف فرمانے والا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معاف فرمائےاور ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔آمین
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع