دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

وَجَلَّہمیں خوابِِ غفلت سے بیدار فرمائے ۔آمین

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:112                                        

ربّ تعالٰی کس   کاعُذر قبول نہیں فرماتا    ؟

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَعْذَرَاللّٰہُ اِلَی امْرِءٍ اَخَّرَ اَجَلَہُ حَتّٰی بَلَغَ سِتِّیْنَ سَنَۃً.  ([1])

ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس شخص  کے لیے کچھ عذر باقی نہیں چھوڑ تا جس کی عمر  مُؤخر کردے یہاں تک کہ  وہ  ساٹھ 60سال تک پہنچ  جائے ۔ ‘‘

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحدیث  کامعنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ علماء کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ یعنی جب  اُسے اتنی مدت تک مہلت دیتا ہے تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں چھوڑتا۔ اوراَعْذَرَ الرَّجُلُاس وقت کہا جاتا ہے  جب کوئی شخص عُذر کے انتہائی مرحلے پر پہنچ جائے۔ ‘‘  ([2])

عُذر باقی نہ چھوڑنے کا معنی:

عمدۃُالقاری میں ہے: ’’ یعنی اس عمر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے کا عُذر قبول نہیں فرماتا۔اب اسے چاہیے کہ اِسْتِغْفَار کرے، طاعت وفرمانبرداری اپنائے اورمکمل طورپرآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے کیونکہ اب اس کے پاس  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کوپیش کرنے کے لیے کوئی عذر نہیں رہا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےاسے اتنی لمبی عمراور  عبادت پر قوّت دی  (لیکن  وہ پھر بھی  فرمانبراری کی طرف نہ آیا )  تو اب اس کا کوئی  عذرقبول نہیں  فرمائے گا۔ ‘‘  ([3])

فتح الباری میں ہے: ’’ یعنی اب وہ یہ  عذر نہیں کر سکتا کہ  اگر مجھے مہلت  ملتی تو میں احکام ِالٰہی بجا  لاتا۔ جب تمام عمر میں قدرت کے باوجود عبادت  ترک کر تا رہا تو اب اس عمر میں اس کے پاس کوئی عذر نہیں بچا اب اسے   چاہیے کہ اِسْتِغْفَار کرے۔ ‘‘  ([4])

بڑھاپے کے بعد فقط موت ہے:

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتےہیں : ’’ اس عبارت کے دومعنی ہیں : (۱) ایک یہ ( کہ) اَعْذَرَکےمعنی ہیں  ’’  عذردُور کردیتاہے۔ ‘‘  یعنی بابِ اِفعال کا ہمزہ سلب کے لیے ہے۔ تب مطلب یہ ہوگا کہ بچپن اور جوانی میں غفلت کا عذرسنا جاسکے گا مگر جو بڑھاپے میں اللہ  تعالٰیکی طرف رجوع نہ کرے اس کا عذر قبول نہ ہوگا ۔کیونکہ بچپن میں جوانی کی امید تھی جوانی میں بڑھاپے کی، اب بڑھاپے میں سوا موت کے اور کس چیز کا انتظار ہے؟ اگر اب بھی عبادت نہ کرے تو سزا کے قابل ہے۔اس کا کوئی بہانہ قابل سننے کے نہیں ۔ (۲) دوسرےیہ کہ اَعْذَرَکے معنی ہیں  ’’ معذور رکھتا ہے۔ ‘‘ یعنی جو بوڑھا آدمی بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے مگر جوانی میں بڑی عبادتیں کرتا رہا ہو تو اللہ تَعالٰیاسے معذورقرار دے کر اس کے نامۂ اعمال میں و ہی جوانی کی عبادت لکھتا ہے۔ساٹھ 60سال پورا بڑھاپا ہے۔بوڑھے نوکر کی پنشن ہوجاتی ہے وہ رؤف و رحیم ربّ بھی اپنے بوڑھے بندوں کی پنشن کردیتا ہے مگر پنشن اس کی ہوتی ہے جو جوانی میں خدمت کرتا رہے۔ ‘‘  ([5])

 



[1]   بخاری، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ ، ۴ / ۲۲۴، حدیث: ۶۴۱۹۔

[2]   ریاض الصالحین، باب الحث علی الازدیاد من الخیر فی اواخر العمر، ص۴۲، تحت الحدیث:  ۱۱۲۔

[3]   عمدۃ القاری، کتاب الرقاق ، باب من بلغ ستین سنۃ ، ۱۵ / ۵۰۳، تحت الباب۔

[4]   فتح الباری ،کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ، ۱۲ / ۲۰۲، تحت الحدیث:  ۶۴۱۹۔

[5]   مرآۃالمناجیح،۷ / ۸۹ ملتقطا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن