30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آخری عمرمیں نیکیوں کی زیادتی کابیان
عمر کےآخری حِصّے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے پر اُبھارنے کا باب
پیدائش سے موت تک زندگی کا ہرہرلمحہ قیمتی ہے۔لیکن غفلت کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اس قیمتی متاع کو بے دریغ ضائع کر تے ہیں ۔عنفوانِ شباب میں دنیا بدلنے کا عزم تو دل و دماغ پرحاوی ہوتا ہےلیکن یادِ الٰہی سے یکسر غافل ہوتے ہیں ۔پھرجب بڑھاپا آ کر طرح طرح ستاتا ہے تب بھی نیکیوں کی طرف مائل نہیں ہوتے، بالآخر اسی غفلت میں دنیائے ناپائیدار سے قبر کی اندھیری کوٹھڑی میں اتار دئیے جاتے ہیں ۔اِس کےبرعکس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنیک بندےہرہرسانس کوغنیمت جانتےہوئےمرتےدم تک رضائے الٰہی کے لیےکوشاں رہتے ہیں ۔اُن کالڑکپن ، جوانی اور بڑھاپا عبادت ہی میں گزرتا ہے۔ بلکہ جوں جوں عمر بڑھتی ہے ان کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وہ اس راز سے واقف ہوتے ہیں کہ مقابلہ کرنے والا منزل کو دیکھ کر اپنی رفتار بڑھاتا ہے ۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اَعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے۔ جس کا خاتمہ اچھا اس کی آخرت اچھی۔ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ آخری عمر میں نیکیوں کی کثرت ‘‘ کے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں ایک1آیت مبارکہ اور پانچ 5اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں۔پہلےآیت کا ترجمہ اورتفسیر ملاحظہ کیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ- (پ۲۲، فاطر: ۳۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسےسمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا تھا۔
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِییہ آیت نقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَاابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اورمحققین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس آیت کا معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ یعنی کیا ہم نے تمہیں ساٹھ 60سال کی زندگی نہیں دی تھی؟ ‘‘ اس معنیٰ کی تائید وہ حدیث پاک بھی کرتی ہے جسے ہم اس باب میں بیان کریں گے ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے اٹھارہ 18سال مراد ہیں ۔ بعض نے چالیس 40سال مراد لیے ہیں اور یہ قول حضرت حسن بصری، کلبی اور مسروق ( بن سعید) رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا ہے۔سَیِّدُنَا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسی طرح کا ایک قول منقول ہے۔ منقول ہے کہ اہل مدینہ میں سے جب کسی کی عمر چالیس 40سال ہوجاتی تو وہ اپنے آپ کو عبادت کے لیے فارغ کر لیتا۔ بعض کے نزدیک اس سے بلوغت کی عمر مراد ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان: (وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ- ) کے بارے میں سَیِّدُنَا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ والا صفات ہے ۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق اس سے مُراد بڑھاپا ہے۔ یہ قول عکرمہ اور ابن عیینہ وغیرہ رَحِمَہُمُ اللہُ کا ہے۔ واللہُ اَعْلَمُ ([1])
تفسیرروح البیان میں ہے: ’’ یعنی کیا ہم نے تمہیں مہلت نہ دی تھی اور تمہیں زندگی نہ بخشی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حا صل کر سکتا تھا۔ بالغ ہونے کے بعد انسان کو جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سےپختہ عقل دی جا ئےتو اس پر لازم ہے کہ مخلوق میں غور و فکر کرے اور یہ سمجھے کہ عبادت کے لائق صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی ذات ہے، جو سب کا خالق و مالک ہے۔اوراٹھارہ یا بیس سال کی عمر میں تو عقل و فکر کی قوت پہلے سے مضبوط اور اس پر حجت مزید مُؤکَّد ہو جاتی ہے ۔صحابۂ کرام اور تابعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی ایک جماعت کے بارے میں منقول ہیں کہ جب وہ چالیس 40سال کی عمر کو پہنچتے یا بڑھاپے کے آثار پاتے تو عبادت کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیتے ، بستر لپیٹ دیتے، شب بیداری میں وقت گزارتے اور لوگوں سے میل جول کم کردیتے۔ ‘‘ ([2]) اللہ عَزَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع