دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میری یہ عطا میرے خزانوں کو سوئی کی تری کی بقدر کم کردیں گے،  وہاں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سورج ہزار ہا سال سے دنیا کو ر وشنی دے رہا ہے مگر اس کی روشنی میں مطلقاً کمی نہ ہوئی۔ جب ربّ تعالٰی کی تجلیوں کا یہ حال ہے تو اس کے خزانو ں کا کیا حال ہوگا۔ اور یہ نسبت بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ ربّ تعالٰی کے خزانے غیر محدود ہیں اور اس کی عطائیں محدود کیونکہ لینے والے محدود ا ور محدود کی غیر محدود سے نسبت کیسی؟  ‘‘  ([1])

عدل فضل کے خلاف نہیں :

حدیث پاک میں ہے:”میں تمہیں اَعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔“اس کی شرح میں مُفَسِّر شہِیر،  مُحَدِّث کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ اس طرح کہ نیک کار کی جزاء میں کمی نہ کروں گا اور بدکار کی سزا میں زیادتی نہ کروں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک کار کو زیادہ نہ دوں اور گنہگار کو معاف نہ کروں ۔ یہاں عدل کا ذکر ہے،  عدل فضل کے خلاف نہیں ۔ لہٰذا حدیث واضح ہے نہ آیات قرآنی کے خلاف ہے اور نہ دیگر احادیث کے مخالف۔ ‘‘  ([2])

خیر اور شر سے کیا مراد ہے؟

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’  جو خیر کو پائے یعنی ثواب اور نعمتیں یا خوش باش حیاتِ طیبہ تو اُسے چاہیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کرے اِس بات پر کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق بخشی جن پر یہ ثواب مرتب ہوا اور یہ اس کا فضل اور رحمت  ہے۔اور جو اس کے علاوہ کوئی چیز پائے یعنی شر۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے لفظ شر کو ذکر نہیں فرمایا، ہمیں یہ بات سکھانے کے لیے کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جو بُرے لفظ ہوں انہیں زبان سے نہ نکالا جائے ، اسی طرح جو الفاظ اس کے مشابہ ہوں جن کو بُرا سمجھا جاتا ہو اور جن کو بولنے سے حیا کی جاتی ہو انہیں بھی زبان سے نہ نکالا جائے۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس لفظ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بولنے سے اجتناب فرمارہا ہے اس میں پڑنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو کتنا سخت ناپسند ہوگا۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ حَیٌّ یعنی زندہ ہے،  کریم  یعنی کرم فرمانے والا ہے،  وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے اور گناہوں کو بخشتا ہے ۔وہ کسی کی گرفت کرنے میں جلدی نہیں فرماتا اور نہ ہی کسی کا پردہ فاش فرماتا ہے۔اس کے بعد فرمایا ’’  جو شر کو پائے تو وہ پنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ کیونکہ اس نے رضائے الٰہی پر اپنی خواہشات اور لذات کو توجیح دی توعدل کے تقاضے کے مطابق وہ اسی چیز کا مستحق ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے فضل وکرم سے محروم رہے ۔ ‘‘  ([3])  

معاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یارب

ہو مغفرت پئے سلطانِ انبیاء یارب

بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یارب

پڑوس خلد میں سَرور کا ہو عطا یارب

نیکیاں ربّ کی توفیق،  گناہ شامت نفس:

مُفَسِّر شہِیر،  مُحَدِّث کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ خلاصہ یہ ہے کہ بندہ نیکیوں کو ربّ تعالی کی توفیق سے سمجھے اور گناہوں کو اپنی شامت نفس سے جانے۔ بلکہ ہر نقص کو اپنی طرف منسوب کرے اور کمال کو ربّ تعالی کی طرف۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا تھا:  ’’ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ یعنی بیمار میں ہوتا ہوں شفاء وہ دیتا ہے۔ ورنہ خیر و شر کا خالق و مالک  ربّ تعالٰی ہی ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں ۔وَالْقَدْرُ خِیْرُہُ وَشَرُّہُ مِنَ ﷲ



[1]   مرآۃ المناجیح ،۳ / ۳۵۶۔

[2]   مرآۃ المناجیح ،۳ / ۳۵۶۔

[3]   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱ /  ۳۳۷، تحت الحدیث: ۱۱۱ملتقطا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن