30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
ربّ کو نفع و ضرر پہنچانے سے کیا مراد ہے؟
حدیث میں ہے کہ تمام لوگ اگر متقی بن جائیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر سب کے سب نافرمان ہوجائیں تو اسے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کوئی نفع و ضرر کیسے پہنچا سکتا ہے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں ۔چنانچہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ تم میرے نفع و ضرر کے مالک نہیں ہو پس اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری عبادت کروتو میری سلطنت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے اور اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری نافرمانی کرو تو مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ اگر تم نیکی کروگے تواپنا ہی بھلا کروگے اوراگر بُرائی کرو گے تو اپنے لیے ہی بُرا کروگے۔ ‘‘ ([1])
مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ (یعنی) تمہاری عبادتوں سے میرا نفع نہیں اور تمہارے گناہوں سے میر ا نقصان نہیں ، بلکہ ان میں نفع نقصان خود تمہارا ہے۔دنیا کے کسی بڑے پرہیز گار کو لے لو پھر سوچو کہ اگر تمام جہان کا دل اس پرہیزگار کا سا ہوجائے اور ساری دنیا اس نیک و صالح کی طرح نیکیاں ہمیشہ کیا کرے۔ (تو اس میں ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا کیا فائدہ؟ فائدہ تو ان تمام لوگوں کا ہے جو یہ نیکیاں کریں ۔) اس ترجمے سے یہ جملہ بالکل واضح ہوگیا، اس پر کوئی اعتراض نہ رہا۔لہٰذا کوئی شخص یہ سمجھ کر عبادت نہ کرے کہ میری عبادت سے ربّ تعالٰی کے خزانے بڑھ جائیں گے بلکہ اس کا احسان مانے کہ اس نے اپنے آستانے پر بلالیا۔ (سب کے نافرمان ہونے سے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی نقصان نہیں ۔) اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو پہلے جملے میں عرض کیا گیا کہ دنیا کے بادشاہوں کا رعایا کے بگڑ جانے سے نقصان ہوتا ہے، آمدنی میں کمی ہو جاتی ہے، خزانہ خالی رہ جاتا ہے۔ مگر ربّ تعالٰی وہ بے نیاز ہے کہ ساری خلق کی بدکاری سے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ خیال رہے کہ یہ مضمون (یعنی تمام لوگوں کا نافرمان ہوجانا) ایسا ہی ہے جیسے ربّ تعالٰی (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قول نقل کرتے ہوئے ) فرماتا ہے : ’’ اگر ربّ تعالٰی کے اولاد ہوتی تو پہلے میں ہی اُسے پوجتا۔ ‘‘ نہ ربّ تعالٰی کے اولاد ممکن ہے، نہ حضور انو ر صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا اسے پوجنا ممکن ۔ایسے ہی تمام بندوں کا گنہگارہوجانا غیر ممکن ہے ، فرشتے، انبیاء معصومین (کہ ان سے گناہ ہوہی نہیں سکتا) اور اولیاء محفوظین بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے) گناہ کرتے ہی نہیں ۔ ‘‘ ([2])
کیا اللہکےخزانے میں کمی ہوسکتی ہے؟
حدیث پاک میں ہے :”اگر میں ہر شخص کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلے میں ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تَری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے۔“ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانے میں بھی کمی ہوسکتی ہے؟ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :یعنی دریا وسمندر میں جب سوئی داخل کر کے نکالی جائے تو بظاہر دیکھنے میں اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی، اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانے سے ساری دنیا کو دینے سے بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اس لیے کہ یہ اس کی رحمت اور کرم ہے اور یہ دونوں قدیم صفات ہیں اور ان کی کوئی حد نہیں اور جو غیر متناہی ہوتا ہے اس میں کمی ہونا محال ہے برخلاف اُس شے کے جو متناہی ہو ، کیونکہ اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے جیسے سمندرکہ یہ زمین کی چیزوں میں سے سب سے بڑی شے ہے۔ بسا اوقات متناہی شے کا کثیر حصہ لے لینے سے بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوتی جیسے آگ اور علم۔ ان کو لینے سے کمی نہیں آتی بلکہ علم تو دینے سے اور بڑھتا ہے۔ لہذا یہ واضح ہوگیا کہ سوئی کی مثال کیوں دی گئی اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقت میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ یہ مخلوق کو سمجھانے کے لیے بطورِ مثال کہا گیا ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ اس قدر دینے سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانے میں اتنی سی بھی کمی نہیں آتی۔ ‘‘ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع