30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (۱۳) ) (پ۲۱، لقمن: ۱۳) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ ‘‘ اکثر آیات میں ظلم سے یہی معنی یعنی شرک ہی مراد ہے البتہ بعض آیات میں گناہوں کی مختلف انواع کو بھی ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ([1])
حدیثِ مذکور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ خود اُس ظالم سے مظلوم کا بدلہ لے گا۔چنانچہ علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو یعنی بعض بعض پر ظلم نہ کریں ۔ کیونکہ میں مظلوم کے ظلم کا اُس ظالم سے خود بدلہ لوں گا۔ جیسا کہ ایک حدیثِ قدسی میں ہے، ارشاد فرمایا: ”میں مظلوم کی مدد ضرور کرتا ہوں اگر چہ کچھ وقت کے بعد۔“ (یعنی وہ انہیں چھوڑنے والا نہیں بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے۔) چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ (۴۲) (پ۱۳، ابراھیم: ۴۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے، انہیں ڈِھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ ([2])
ظلم کی ممانعت پر تین فرامین مصطفےٰ:
(1) ’’ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہیں ۔ ‘‘ ([3]) (یعنی ظلم کرنے والا بروز قیامت سخت مصیبتوں اور تاریکیوں میں گِھرا ہوگا۔) (2) ’’ مظلوم کی بددعا سے بچو کہ اس کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مابین کوئی پردہ نہیں ۔ ‘‘ ([4]) (3) ’’ ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم کی سزا سے زیادہ خطرناک کسی اور گناہ کی سزا نہیں ۔ ‘‘ ([5])
تمام لوگوں کی گمراہی سے کیا مرادہے؟
مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیا: ’’ تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں ۔ ‘‘ عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں : ’’ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لوگ گمراہی پر پیدا ہوئے ہیں سوائے اس کے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہدایت دے۔جبکہ مشہور حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت یعنی دین ِاسلام پر پیدا ہوتا ہے۔تواس کا جواب یہ ہے کہ پہلی حدیث میں لوگوں کو اس گمراہی سے مُتَّصِفْ کیا گیا ہے جس پر بعثت رسول سے پہلے وہ لوگ تھےکہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیتا اور وہ لوگ اُسی شہوت پرستی، راحت اور توحید میں تَدَبُّر سے غفلت میں رہتے تو گمراہ ہوجاتے۔ ‘‘ ([6])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے گمراہ ہونے کے دو2معنی بیان فرمائے ہیں : (۱) ’’ تم رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے۔ ‘‘ (۲) ’’ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم حق سے بھٹک جاتے۔ ‘‘ اب پہلے معنی کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ ’’ تم سب رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے ماسوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاس پر ایمان لانے کی توفیق دےدی جو کچھ رسول لے کر آئے۔ ‘‘ اور دوسرے معنی کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ ’’ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم سب حق سے بھٹک جاتے ما سوائے ان لوگوں کے جنہیں
[1] دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱ / ۳۳۲، تحت الحدیث۱۱۱۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبۃ ،۵ / ۱۵۵، تحت الحدیث: ۲۳۲۶ملتقطا۔
[3] بخاری، کتاب المظالم، باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ، ۲ / ۱۲۷، حدیث: ۲۴۴۷۔
[4] بخاری، کتاب المظالم، باب الاتقا والحذر من دعوۃ المظلوم، ۲ / ۱۲۸، حدیث: ۲۴۴۸۔
[5] الکامل فی ضعفاء الرجال، ۷ / ۳۱۵۔
[6] شرح مسلم للنووی ، کتاب البر و الصلۃ۔۔ ۔الخ ، باب تحریم الظلم ،۸ / ۱۳۲، الجز ء السادس عشر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع