30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :111
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِی، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا یَرْوِیْ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہُ قَالَ: یَا عِبَادِی! اِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ ہَدَیْتُہُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ اَہْدِکُمْ، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ جَائِعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہُ، فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِی! کُلُّکُمْ عَارٍاِلَّا مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ، یَا عِبَادِی! اِنَّکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ، یَا عِبَادِی!اِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّیْ فَتَضُرُّوْنِیْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِیْ فَتَنْفَعُوْنِیْ، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلَی اَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَالِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْاعَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ مَا نَقَصَ ذَالِکَ مِنْ مُلْکِیْ شَیْاً، یَا عِبَادِیْ!لَوْ اَنَّ اَوَّلَکمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ، فَسَاَلُوْنِیْ فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَسْاَلَتَہُ، مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ، یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہَا لَکُمْ، ثُمَّ اُوَفِّیْکُمۡ اِیَّاہَا، فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہُ، قَالَ سَعِیْدٌ: کَانَ اَبُوْ اِدْرِیْسَ اِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیْثِ جَثَا عَلٰی رُکْبَتَیْہِ . ([1])
وَرَويْنَا عَنِ اْلاِمَامِ اَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: لَيْسَ لاَِهْلِ الشَّامِ حَدِيْثٌ اَشْرَفُ مِنْ هَذَا الْحَدِيْثِ.
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابوذَرجُنْدُب بن جُنادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا ” اے میرے بندو !میں نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کردیا ہےاور میں نے تم پر بھی ظلم کو حرام کر دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔* *اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں ، تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔* * اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ * *اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔* * اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہاری بخشش کردوں گا۔* * اے میرے بندو! نہ تم مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی نفع۔* * اے میرے بندو !اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن تم میں سے سب سے متقی آدمی کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔* * اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن تم میں سے سب سے بدکار آدمی کی طرح ہوجائیں پھر بھی میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی ۔ ** اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن کسی جگہ پر کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر شخص کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلے میں ایسے حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تَرِی جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے۔ **اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لیے جمع کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کی حمد بیان کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا سعید رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابواِدریس خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی جب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔ ‘‘ حنبلیوں کے امام حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اہل شام کے لیے اس سے زیادہ شرف والی اور کوئی حدیث نہیں ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع