30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس بھیجا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسی طرح تیری حفاظت فرمائے جیسے تُو نے اُس سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا۔ ‘‘ پھراس شخص نے لڑکے کاسارا مال اُسے واپس کر دیا۔ ([1])
ايک نوجوان حضرت سَیِّدُنَا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت میں تھا کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو خبر دی کہ يہ شخص تين روز بعد مرجائے گا۔ اس بات نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو غمگین کيالیکن آپ نے اس شخص کو تين روز بعد بھی صحيح سلامت پايا۔آپ کو اس بات سے بہت تعجب ہوا۔ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام دوبارہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے توعرض کی: ’’ میں اُس شخص کے پاس روح قبض کرنے گيا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے ارشاد فرمايا: ’’ يہ شخص اپنی عمر پوری کرنے سے ايک روز قبل باہر نکلا اور ايک مسکين کو دیکھا، اس نے اسےبيس20 درہم دئیے۔اُس مسکين نے اسے دعا دی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تيری عمر میں برکت عطا فرمائے۔ پس اُس کی دعا قبول کرلی گئی اور میں نے ہر درہم کے بدلے اس کی عمر میں ايک ايک سال کا اضافہ فرماديا ہے۔ ‘‘ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ قضا یعنی تقدیر کی تین ۳ قسمیں ہے۔ (۱) مُبْرَمِ حقیقی، کہ علمِ الٰہی میں کسی شے پر مُعَلَّق نہیں ۔ (۲) اور مُعَلَّقِ مَحْض، کہ صُحفِ ملائکہ میں کسی شے پر اُس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔ (۳) اور مُعَلَّقِ شَبِیْہ بہ مُبْرَم، کہ صُحف ِملائکہ میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علمِ الٰہی میں تعلیق ہے۔ وہ جو مُبْرَمِ حقیقی ہے اُس کی تبدیلی نا ممکن ہے، اکابر محبوبانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو اُنہیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیا ءکی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحف ِملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں ، اُس تک خواص اَکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی کو فرماتے ہیں : ’’ میں قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ ([3])
حضرت سَیِّدُنَا ابو جعفر بن خطاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو اپنے دَور کے اَبدال یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مقرر کردہ بہت بڑے ولی تھے، فرماتے ہیں کہ میرے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی میں نے زوجہ سے پوچھا: ’’ تمہارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’ چار4 انڈے ہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس سائل کو دے دو۔ ‘‘ زوجہ نے حکم کی تعمیل کی اور سائل انڈے لے کر چلا گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے پاس ایک دوست نے انڈوں سے بھری ہوئی ٹوکری بھیجی۔ میں نے گھر والوں سےپوچھا: ’’ اس میں کل کتنے انڈے ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’ تیس30۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ تم نے توفقیر کو چار انڈے دیئے تھے، یہ تیس کس حساب سے آئے؟ ‘‘ زوجہ کہنے لگی: ’’ تیس انڈے سالِم ہیں اور دس ٹوٹے ہوئے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا شیخ علامہ یافعی یمنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ بعض حضرات اِس حکایت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ سائل کو جو انڈے دیئے گئے تھے ان میں تین سالِم اور ایک ٹوٹا ہوا تھا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہر ایک کے بدلے دس دس عطا فرمائے۔ سالم کے عوض سالم اور ٹوٹے ہوئے کے بدلے ٹوٹےہوئے۔ ‘‘ ([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع