دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

تھے اور انہوں کتنا مال صدقہ کیا؟  اس کے متعلق فقیہ اَعظم حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق اَمْجَدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ  ’’ یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے کہ چار ہزار4000 یا آٹھ ہزار8000 (درہم) پیش فرمایا۔ ‘‘  ([1])  

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’  تاجدارِ رِسالت،  شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صدقے کی ترغیب دی تو حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چار ہزار درہم لے آئے جو اس دن آپ کے کل اثاثے کا نصف تھا اور اسی دن حضرت سَیِّدُنَا عاصم بن عدی بن عَجلان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سو 100 وسق  (کم وبیش چھ سو پندرہ 615مَن) کھجوریں صدقہ کیں ۔ ‘‘  ([2])

صحابۂ کرام پر طعن کرنے والے منافقین:

جب حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنا صدقہ لے کربارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو منافقین بولے : ’’ یہ ریاکارہے۔ ‘‘  عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ یہ منافقین مُعَتِّبْ بن قشیر اور عبد الرحمٰن بن نَبْتَل تھے۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی راہ میں اپنا ذاتی مال صدقہ کرنا ان مقدس ہستیوں کی اعلیٰ صفات میں سے ہے، مگر منافقین نے اسے عیب شمار کیا،  معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جیسی عظیم ہستیوں میں عیب تلاش کرنا اور انہیں بیان کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے عُشَّاق اُن کے عُیُوب نہیں بلکہ اُن کی اعلیٰ صفات کو بیان کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی:

ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابن جریررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک روایت ذکر کی ہے،  فرماتے ہیں کہ میں نے کھجور کی شاخوں کا ایک گٹھر اپنی پیٹھ پر لاد کر دو صاع کھجوروں کے عوض ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچایا۔ پھر دو صاع میں سے ایک صاع گھروالوں کو دے دیا تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کریں اور دوسرا صاع بارگاہ رسالت میں لایا ہوں تاکہ اس کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قرب حاصل کر سکوں ۔ سرکارِ نامدار،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’  اسے صدقے پر ڈال دو۔ ‘‘  اس پر کچھ لوگوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس مسکین کے صدقے سے غنی ہے۔اس پر قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ  (پ۱۰،  التوبۃ: ۷۹)

ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔ ([4])

رسول اللہ کے قُرب کے لیے صدقہ کرنا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے صدقہ کرنے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا:  ’’ اس دوسرے صاع کو راہِ خدا میں خرچ کرکے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب حاصل کر سکوں ۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ کے کسی بھی مقبول بندےکے تقرب کے لیے کوئی عمل کرنا بالکل جائز اور باعث اجر وثواب ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی قباحت ہوتی تو نہ ہی سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود یہ کام کرتے اور نہ ہی کسی کے سامنے بیان فرماتے،  نیز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود اس بات سے آپ کو منع فرمادیتے۔ اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے جن دوستوں کے سامنے اس بات کا تذکرہ فرمایا وہ بھی آپ کو منع کردیتے کہ ایسا کرنا تو جائز نہیں ہےلیکن کسی نے بھی اِس کا



[1]   نزہۃ القاری، ۲‏ / ۹۰۵۔

[2]   عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۶ ‏ / ۳۷۹، تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔

[3]   فتح الباری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۴ ‏ / ۲۴۵،تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔

[4]   عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۶ ‏ / ۳۸۰، تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن