30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کو شہادت کے لیے پیش کرنا نہ صرف جائز ہےبلکہ بہت بڑی سعادت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال ، آل اولاد سب کچھ قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، راہِ خدا میں آنے والی تمام تکالیف پر صبر اور برداشت کی طاقت عطا فرمائے، ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی پکی محبت عطا فرمائے، اُن کے اَوصافِ حمیدہ بیان کرکے اپنے ایمان کو تازگی بخشنے کی سعادت نصیب فرمائے، ہمیں گستاخانِ صحابہ کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :110
صَحَابۂ کِرَام کے صدقہ کرنے کا اَنداز
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍ واَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:لَمَّا نَزَلَتْ اٰیَۃُ الصَّدَقَۃِ کُنَّا نُحَامِلُ عَلٰی ظُہُوْرِنَا، فَجَاءَرَجُلٌ فَتَصَدَّقَ بِشَیْء ٍ کَثِیْرٍ فَقَالُوْا: مُرَائٍ، وَجَاءَ رَجُلٌ اٰخَرُ فَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ فَقَالُوْا:اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنْ صَاعِ ہَذَا! فَنَزَلَتْ: (اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ ) اَلْاٰیَۃَ. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابومَسْعُود عُقْبَہ بِن عَمرو اَنصارِی بَدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ جب آیتِ صدقہ نازل ہوئی تو ہم لوگ مزدوری کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک شخص آیا اور اس نے کثیرمال صدقہ کیا تو منافقین بولے : ’’ یہ ریا کار ہے۔ ‘‘ ایک دوسرا شخص آیا، اس نے ایک صاع صدقہ کیا تو منافقین نے کہا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ایک صاع سے مستغنی یعنی بے پر واہ ہے۔ ‘‘ تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ (پ۱۰، التوبۃ: ۷۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔
آیتِ صدقہ سے مراد کونسی آیت ہے؟
مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ جب ’’ آیت صدقہ ‘‘ نازل ہوئی تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنی استطاعت کے مطابق بارگاہ رسالت میں اپنا اپنا صدقہ پیش کیا۔ یہ آیت صدقہ سورۂ توبہ کی آیت نمبر۱۰۳ ہے، جس میں ارشاد ہوتا ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ- (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل (وصول) کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو۔ ([2])
شارح حدیث علامہ سید محمود احمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حضور سید عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان مبارک سے صدقہ و خیرات کی ترغیب و تلقین پاکر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْناپنی وُسعت و ہمت کے مطابق خیرات کرتے تھے۔ بعض صحابہ امیر تھے وہ بڑی بڑی رقمیں راہِ خدا میں دیتے تھے اور جو غریب تھے وہ بھی محنت مزدوری کرکے کچھ کمالاتے اور اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے تاکہ صدقے کے ثواب سے محروم نہ رہ جائیں ۔ ‘‘ ([3])
حدیث مذکور میں ہے کہ حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ترغیب سے ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کثیر مال صدقہ کیا۔ وہ صحابی کون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع