30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ جس جرأت اور بہادری سے حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پیش قدمی کی اور مشرکین سے قتال کیا، میں اس کی طاقت نہیں رکھتا باوجود یکہ میں بھی طاقتور اور بہادر ہوں لیکن جس طرح حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دشمن کے وار اپنے جسم پر سہے اور تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے اسّی 80 سے زائد زخم اپنے جسم پر کھاتے ہوئے بھی صبر وتحمل کا دامن نہ چھوڑا میں اس قسم کے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ‘‘ ([1])
جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا جائز ہے اور وعدہ پورا کرنابہت فضیلت کاکام ہے اگرچہ اسے پورا کرنا اتنا مشکل ہوکہ جان چلی جائے ۔نیز شہادت کی طلب ا ُس آیت کے خلاف نہیں جس میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس حدیث پاک میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فضیلت ظاہر ہے اورآپ کے اَوصافِ حمیدہ مثلاً اِیمان کی پختگی، تقویٰ ووَرَع یعنی پرہیز گاری کی انتہاء اور قوتِ یقین یعنی توکل بھی ظاہر ہے۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ” عثمانِ غَنی“ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) غزوۂ بدر کفار ومسلمین کے درمیان وہ پہلا معرکہ ہے جس میں رحمت عالم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس شریک ہوئے ورنہ اس سے پہلے بھی جنگ ہوچکی تھی۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی جلیل القدر صحابی رسول تھے، آپ کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّکے ان برگزیدہ بندوں میں ہوتا تھا جو کسی بات پر قسم اٹھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّان کی قسم کو پورا فرمادیتا ہے۔
(3) سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت ہی صابر وشاکراورجرأت وبہادری والے صحابی تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا ۔
(4) اپنے نیک اِرادے اور پختہ عزم کا اِظہار کرنا جائز ہے اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے جیسا کہ سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے پختہ اِرادے کو ظاہر فرمایا۔
(5) کوئی بھی اِرادہ یا نیت کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ کیا میں اس پر عمل بھی کرسکوں گا یا نہیں ؟ جیساکہ سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فقط اپنے اس ارادے کو تو ظاہر فرمایا کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے لیکن یہ نہ فرمایا کہ وہ کیا کریں گے۔
(6) غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو جس وقتی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی وجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کو سمجھنے میں اجتہادی خطا کا واقع ہونا تھا، اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اپنے دینی پیشوا کے حکم پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے ۔
(7) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تمام لغزشوں کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے معافی کا پروانہ جاری فرمادیا اور تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مغفرت فرمادی گئی ہے، لہٰذا اب ان مقدس ہستیوں پر کسی کو کسی بھی طرح کا طعن کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، ہمیشہ ان کے اچھے اوصاف ہی بیان کیے جائیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع