دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

ہٹ گئے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اس اجتہادی خطا کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے قرآن پاک کی سورۂ آلِ عمران میں تفصیل سے بیان فرمایا اور پھر ان تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی اس خطا کے لیے معافی کا بھی اعلان فرمادیا۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ  لَقَدْ  صَدَقَكُمُ  اللّٰهُ  وَعْدَهٗۤ  اِذْ  تَحُسُّوْنَهُمْ  بِاِذْنِهٖۚ-حَتّٰۤى  اِذَا  فَشِلْتُمْ  وَ  تَنَازَعْتُمْ  فِی  الْاَمْرِ  وَ  عَصَیْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  مَاۤ  اَرٰىكُمْ  مَّا  تُحِبُّوْنَؕ-مِنْكُمْ  مَّنْ  یُّرِیْدُ  الدُّنْیَا  وَ  مِنْكُمْ  مَّنْ  یُّرِیْدُ  الْاٰخِرَةَۚ-ثُمَّ  صَرَفَكُمْ  عَنْهُمْ  لِیَبْتَلِیَكُمْۚ-وَ  لَقَدْ  عَفَا  عَنْكُمْؕ-وَ  اللّٰهُ  ذُوْ  فَضْلٍ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ (۱۵۲)

   (پ۴،  ال عمران: ۱۵۲)

 ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور بے شک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا  اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا اور پھر تمہارا منہ ان سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے اور بے شک اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں چند باتوں کا واضح بیان ہے، ایک تو شرکاء غزؤہ اُحد کی غلطی کی معافی اور ان کے مومن ہونے کی تصریح اور یہ کہ یہ معافی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فضل ہے جو وہ مؤمنوں پر فرماتا ہے ۔بعض بدباطن اور بدعقیدہ لوگ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی اسی اجتہادی خطا کی بنا پر ان پر مَعَاذَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ سب وشتم اور طعن کرتے ہیں جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ان کے لیے معافی کا پروانہ جاری فرمادیا۔اب اللہ عَزَّوَجَلَّکے معاف فرما دینے کے بعد بھی جو لوگ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر طعن کریں ان کا منکرِ قرآن ہونا واضح ہے۔ ([1])  اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے لوگوں کے شرسے تمام مسلمانوں کو محفوظ فرمائے،  اور ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین  

سَیِّدُنَا انس بن نضر اور جنت کی خوشبو:

حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سامنا جب حضر ت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہوا تو انہوں نے فرمایا:  ’’  اے سعد! مجھے اُحد پہاڑ کی جانب سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ ‘‘  شارحین حدیث نے اس کے دو 2معنی بیان کیے ہیں : (1)  حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں :  ’’ آپ کا یہ کلام حقیقت پر محمول کیا جاسکتا ہے وہ اس طرح کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے لیے شہید ہونا مُقَدَّر فرمادیا تھا،  اسی بناء پر آپ کو جنت کی خوشبو سونگھا دی گئی ہو اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ جنت کی خوشبو پانچ سو 500سال کی مَسَافت سے سُونگھی جاسکتی ہے۔ ‘‘  ([2])

 (2) عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جنت کا تصور کیا ہو جو شہداء کے لیے تیا رکی گئی ہے اور آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ وہ جنت اسی مقام پر ہے جہاں قتال کیا جارہا ہے تو اس صورت میں آپ کے جنت کی خوشبو والے کلام کا معنی یہ ہوگا کہ بے شک میں جانتا ہوں کہ شہداء کی جنت کاحصول اسی مقام پر ہے جہاں جنگ کی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں اس جنت کو حاصل کرنے کا اشتیاق پید اہوگیا ۔ ‘‘  ([3])

سَیِّدُنَاانس بن نضر کی جرأت وبہادری وصبر وتحمل:

حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے گفتگو کرنے کے بعد حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میدانِ کارزار میں کود پڑے اور  جواں مَردِی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کے جسم پر تلواروں ،  نیزوں اور تیروں کے اسّی 80سے زائد زخم آئے حتی کہ مشرکین نے آپ کے کان اور ناک کاٹ  کر مُثلہ کردیا۔حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ کی یہ حالت دیکھ کر شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کر دکھایا میں وہ نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘  عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد



[1]   فیوض الباری،۱۱ / ۱۸۷ماخوذا۔

[2]   اکمال المعلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشھید،۶  / ۳۲۶، تحت الحدیث: ۱۹۰۳۔

[3]   فتح الباری، کتاب الجھاد و السیر، باب قول اللہ عزوجل: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔الخ،۷ / ۲۰،تحت الحدیث: ۲۸۰۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن