30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیکن اس جنگ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس شریک نہ ہوئے تھے۔ ‘‘ ([1])
حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکا تھا لیکن اب اگر مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ ‘‘ علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ کلام اس بات کو شامل ہے کہ آپ نے خود پر لازم کرلیا تھا کہ آپ کسی بھی حال میں جہاد میں شریک ہوں گے اور اپنی قدرت کے مطابق ہمت و حوصلے سے کام لیں گے نیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کیا کریں گے؟ کیونکہ آپ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ کسی بات کو اپنے اوپر لازم کرکے اگر آپ نہ کر پائے تو یہ اچھی بات نہیں اور اس معاملے میں آپ اپنی قوت و ہمت پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے خاموش ہوگئے۔ اسی وجہ سے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ ’’ آپ اس سے زیادہ کچھ اور بولنے سے گھبرائے۔ ‘‘ لیکن آپ کی نیت سچی تھی اورآپ اپنے ارادے میں پختہ تھے اسی وجہ سے آپ کے حق میں نازل ہونے والی آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ارادے کو عہد کا نام دیا۔ ‘‘ ([2])
جنگ اُحد میں مسلمانوں کے میدان چھوڑنے کی وجہ:
حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہےکہ جنگ اُحد میں مسلمان پیچھے ہٹ گئے اور حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں معذرت پیش کی۔اس کا پس منظر کچھ یوں ہے رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ سات سو 700 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُحد پہاڑ کو پشت پر رکھ کر صف بندی کی۔حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو جھنڈا عطا فرمایا، سَیِّدُنَا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی ایک دستے کا افسر مقرر فرمایا، سَیِّدُنَا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بغیر زِرہ والےدستے کی کمان عطا فرمائی۔ اُحُدپہاڑ کی پشت سے حملے کا خطرہ تھا اس لیے آپ نے پچاس50تیر اندازوں کا ایک دستہ وہاں متعین کیا جن پر حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن جُبَیْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو مقررفرمایا۔اس دستے کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ خصوصی ہدایات جاری فرمائی تھیں کہ وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں ۔ جنگ کی ابتداء میں ہی کفار کو سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور تمام کافر بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر تیر انداز دستے والے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔
دراصل اس دستے میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ مال غنیمت جمع کیا جائے یا نہیں ، بعض نے کہا کہ نہ کیا جائے کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس جگہ سے ہٹنے کو منع فرمایا ہے، لیکن بعض نے کہا کہ چونکہ کفار بھاگ گئے ہیں اور جنگ ختم ہوگئی ہے لہٰذا کوئی حرج نہیں اس لیے وہ مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ان تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھاکہ حضرت سَیِّدُنَا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو اس وقت ایمان نہ لائے تھےموقع پاکر پیچھے سے حملہ کر دیا ۔اس اچانک حملے کے نتیجے میں حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عُمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید ہوگئے، چونکہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بہت مُشابہ تھے اس لیے شور مچ گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہید ہوگئے ہیں ، اس خبر سے مزید بدحواسی پھیل گئی، بعد اَزاں سَیِّدُنَا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نظر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پڑگئی اور انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبالکل خیریت سے ہیں ۔یہ سن کر ہر طرف سے جان نثار ٹوٹ پڑے، کفار بھی اسی طرف مُتَوجہ ہوگئے، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گرد دائرہ بنالیا اور دفاع کرنے لگے، اس میں مُتَعَدَّد صحابی شہید ہوگئے ۔بالآخر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے گئے جہاں دشمن نہ آسکتے تھے ۔
الغرض اس جنگ میں مسلمانوں کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ یہی ہوئی کہ سَیِّدُنَا عبداللہ بن جُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھی اپنی جگہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع