30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ آیت مبارکہ کا شانِ نزول:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے اس آیت مبارکہ کے دو شان نزول بیان فرمائے ہیں :
(1) یہ آیت مبارکہ حضرت سَیِّدُنَا اَنس بن نَضْررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی۔
(2) بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ستّر ۷۰ اَصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور اس میں کوئی کمی نہ کی۔ ([1])
سَیِّدُنَا انس بن نضر کی کرامت:
حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی بہادر اور جاں باز صحابی ہیں ، مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی شہادت کا علم ہوچکا تھا اور شہادت سے قبل انہیں جنت کی خوشبوآرہی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت ہی متقی وپرہیزگار صحابی تھے، بارگاہِ الٰہی میں بہت بلند مقام حاصل تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاشمار اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان خاص الخاص بندوں اور ولیوں میں ہوتا تھا جو کسی بات پر قسم اٹھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّان کی قسم کو پورا فرماتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن سَیِّدَتُنَا رُبَیعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جھگڑا وتکرار کرتے ہوئے ایک اَنصاری لڑکی کے دو اگلے دانت توڑ ڈالے ۔ لڑکی والوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قرآن مجید کے حکم کے مطابق یہ فیصلہ فرمادیاکہ رُبَیع بنت نضرکے دانت قصاص میں توڑ دیئے جائیں ۔ جب حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پتہ چلا تو وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میری بہن کےدانت نہیں توڑے جائیں گے۔ ‘‘ رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے انس بن نضر! تم کیا کہہ رہے ہو؟ قصاص تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب کا فیصلہ ہے۔ ‘‘ یہ گفتگوابھی ہورہی تھی کہ لڑکی والے دربارِنبوت میں حاضر ہوئے اورکہنے لگے: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قصاص میں رُبَیع کا دانت توڑنے کی بجائے ہمیں دِیَت یعنی مالی مُعاوضہ دلایاجائے۔ ‘‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، اس طرح سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قسم پوری ہوگئی اور آپ کی بہن حضرت سَیِّدَتُنَا رُبَیع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے دانت توڑے جانے سے بچ گئے۔رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس موقع پر ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ کسی معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن کی قسم کوپورا فرمادیتاہے ۔ ‘‘ شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ حضوراَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِرشاد گرامی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالٰی کے بندوں میں سے کچھ ایسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی ہیں کہ اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں جو بظاہر ہونے والی نہ ہو ، اللہ تعالٰی کے یہ بندے قسم کھالیں کہ ہوجائے گی تو اللہ تعالٰی اُن مُقَدَّس بندوں کی قسموں کو ٹوٹنے نہیں دیتابلکہ اس نہ ہونے والی چیز کو موجود فرمادیتاہے تاکہ ان کی قسم پوری ہوجائے۔ ‘‘ ([2])
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے تو آپ نے محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی کہ میں مشرکین سے لڑی جانے والی پہلی جنگ میں شریک نہ ہوسکا تھا۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جنگ بدر سن ۲ہجری میں ہوئی جبکہ مسلمان اس سے پہلے بھی جنگ کرچکے تھے تو پھر سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ بدر کو پہلی جنگ کیوں کہا؟ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ غزوؤ بدر وہ پہلا معرکہ ہے جس میں تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس خود قتال کے لیے نکلے اسی وجہ سے حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے پہلی جنگ کہا ورنہ مسلمان اس سے پہلے بھی جنگ کرچکے تھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع