30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں میں خرچ کیا، یقیناً ایسا شخص دنیا و آخرت دونوں میں خوش وخرم رہے گا، لیکن جس نے اپنا قیمتی وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں کی بجائے گناہوں میں برباد کردیا تو اسےمرنے کے بعد پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے موت سے پہلے پہلے آخرت کی تیاری کرلی۔
یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے:
حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ جلدی کرو! جلدی کرو!!تمہاری زندگی کیا ہے ؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رُک جائیں تو تمہارے ان اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہوجائے جن سے تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قُرب حاصل کرتے ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنا محاسبہ کیا اور اپنے گناہوں پر چند آنسو بہائے۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پارہ16سورہ مریم کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ (۸۴) (پ۱۶، مریم: ۸۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالِی فرماتے ہیں : ’’ یہاں گنتی سے سانسوں کی گنتی مُراد ہے۔ ‘‘ ([1])
یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے
غفلت سے مگر دل کیوں بیدار نہیں ہوتا
دل ہائے گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا
مغلوب شہا نفس بدکار نہیں ہوتا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ ابو بکر ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) عمر کا طویل ہونا بندے کے اِختیار میں نہیں لیکن زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنا بندے کے اختیار میں ہے لہٰذا زندگی کے قیمتی لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کیجئے۔
(2) جس طرح ایک تاجر اپنا سرمایہ ایسی جگہ لگاتا ہے جہاں اُسے زیادہ سے زیادہ منافع ہو اسی طرح بندے کو اپنی زندگی اُن اعمال میں صَرف کرنی چاہیے جن سے آخرت میں زیادہ فائدہ ہو۔
(3) طویل عمر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک نعمت ہے لہذا اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کیے جائیں ۔
(4) عمر کا طویل ہونا مؤمن کے لیے اس لیے بھی بہت بڑی نعمت ہے کہ اگرچہ وہ زندگی میں نیک اعمال پر استقامت نہ پا سکے مگر اس کا ایمان تو سلامت ہے اور یہ خود بڑی نعمت ہے۔
(5) نامۂ اَعمال میں فقط نیکیاں ہی نیکیاں ہوں کوئی گناہ نہ ہو یہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکا خاصہ ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہیں یا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان نیک بندوں کی صفت ہوسکتی ہے جنہیں وہ اپنی رحمت سے گناہوں سے محفوظ فرمالے، جس کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہوں وہ بھی خوش نصیب ہے لیکن ان معنی میں کہ اس کے نامۂ اعمال میں کچھ نہ کچھ تو نیکیاں ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع