30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی لمبی عمر میں انسان وہ کام کرے جو اُسے ربّ تعالٰی کے قریب کر نے والے اور اس کی رِضا تک پہنچا نے والے ہوں اور عمل کے اچھا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کو تمام شرائط و اَرکان کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے۔ ‘‘ ([1])
لمبی عمر نیک اَعمال میں اِضافے کا باعث:
حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ عمر طویل ہونے کے ساتھ ساتھ نیک اَعمال کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ جیسے جیسے عمر بڑھتی جائے نیک اَعمال میں بھی اضافہ ہوتا جائے ۔کیونکہ جیسے جیسے عمر طویل ہوتی جائے گی نیک اعمال کے سبب اس کے اجر وثواب اور درجات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ عَلَّامَہْ عَبْدُالرَّءُوْفْ مَنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی مذکورہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ جس کے عمل کثیر ہوں گے تو جب جب اس کی عمر بڑھے گی اس کا اجر بھی بڑھے گا اور اس کے درجات بھی بڑھیں گے کیونکہ زندگی میں اُجور کی زیادتی اعمال کی زیادتی کا سبب ہے اور اگریہ (اعمال کی زیاد تی ) نہ بھی ہو پھر بھی ایمان پر استقامت تو حاصل ہے ہی اور اس سے بڑھ کر اور کیاسعادت ہوگی؟ یہاں پر یہ اعتراض کرنا درست نہیں ہے کہ کبھی کبھی ایمان سلب بھی تو کرلیا جاتا ہے؟ کیونکہ اگرعلمِ الٰہی میں اس کا برا خاتمہ لکھا جاچکا ہے تو وہ تو ہوکر ہی رہے گا ، عمر کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پس (ایمان کی سلامتی کے ساتھ) اگر عمر طویل ہوگی تو نیک اعمال اور درجات میں اضافہ ہوگا اور اگر عمر کم ہوگی تو نیک اعمال بھی کم ہوں گے۔ ‘‘ ([2])
زندگی کے لمحات اَنمول ہیرے ہیں :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے” اَ نمول ہیرے“ صفحہ 3پر شیخ طریقت امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ فرماتے ہیں :ہماری زندگی کے لمحات انمول ہیرے ہیں اگران کو ہم نے بے کار ضائع کردیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کو ایک مُقرَّرہ وَقت کے لیے خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجا ہے۔ چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (۱۱۵) (پ۱۸، مؤمنون:۱۱۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔
”خزائن العرفان“ میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے: ’’ اور (کیا تمہیں ) آخِرت میں جزا کے لیے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لیے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔ ‘‘ موت وحیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے پارہ ۲۹ سورۃُالملک میں ارشاد ہوتا ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ- (پ۲۹، الملک:۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دو آیات کے علاوہ بھی قرآنِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیقِ انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے۔ یقینا زندگی بہت مختصر ہے، جو شخص اس مختصر سی زندگی میں اچھے اور نیک اعمال کرنے میں کامیاب ہوگیا، اپنے قیمتی وقت کو فضول برباد اور ضائع کرنے کی بجائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع