30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بکری سے بہتر ہے۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اسی کی قربانی دے دو لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے ایسا کرنا کافی نہ ہوگا۔ ‘‘ ([1])
اِختیاراتِ مصطفےٰ کا تفصیلی عقیدہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خلاصہ یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے حبیب، ہم گناہگاروں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہر طرح کے اِختیارات سے نوازا ہے۔صدرالشریعہ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِختیاراتِ مصطفےٰ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نائب مطلق ہیں ، تمام جہان حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے تحت تصرف کردیا گیا، جو چاہیں کریں ، جسے جو چاہیں دیں ، جس سے جو چاہیں واپس لیں ، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے ربّ کے سوا کسی کے محکوم نہیں ، تمام آدمیوں کے مالک ہیں ، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی مِلک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ والارض حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے زیرِ فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دے دی گئیں ، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ، دنیا و آخرت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی عطا کا ایک حصہ ہے، اَحکامِ تشریْعیَّہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے قبضہ میں کر دیئے گئے کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں ۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ حسن بن علی ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے تمام خزانوں پر ایسی قدرت عطا فرمائی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جسے چاہیں ، جو چاہیں ، جتنا چاہیں عطا فرمادیں ۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے ایسے مالک ومختار ہیں کہ احکامِ شرعیہ میں بھی جس کے لیے جو چاہیں خاص فرمادیں ۔
(3) دنیا وآخرت دونوں میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بادشاہی ہے، جنت اور اس کی تمام نعمتیں تو حضور سرورِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عطا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں ۔
(4) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنت میں جس مقام پر فائز ہوں گے اس مرتبے پر کوئی نبی عَلَیْہِ السَّلَام بھی نہیں پہنچ سکتا چہ جائیکہ کوئی غیر نبی اور اُمَّتی اُس تک پہنچے۔
(5) جنت اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحمت سے ہی ملے گی، البتہ عبادات اور کثرت سجود قرب حاصل کرنے اور درجات کی بلندی میں اضافے کا ذریعہ ہیں ۔
(6) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرب اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قُرب دونوں لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں پائے جاسکتے۔
(7) بندے کی ربّ سے محبت اور ربّ کی بندے سے محبت دونوں رسولِ خدا، حبیب کبریاء، احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع پر موقوف ہیں۔
حضور سید المرسلین، رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایمان، مال اولاد ، جنت اور عزت سب کچھ مانگ سکتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو یہ تمام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع