30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے بہت سی چیزیں عطا ہوئیں ۔ چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جگہ حضور تاجدار کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے حسب ذیل چیزیں مانگیں : * *زندگی میں ایمان پر استقامت** نیکیوں کی توفیق، ** گناہوں سے کنارہ کشی، **مرتے وقت ایمان پر خاتمہ، ** قبر کے حساب میں کامیابی، **حشرمیں اعمال کی قبولیت، **پل صراط سے بخیریت گزر، **جنت میں ربّ کا فضل و بلندیٔ مراتب۔یہ سب چیزیں صحابی نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مانگیں اور حضور نے صحابی کو بخشیں ، لہذا ہم بھی حضورسے ایمان، مال، اولاد، عزت، جنت، سب کچھ مانگ سکتے ہیں ، یہ مانگنا سنت صحابہ ہے۔حضور کےلنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہیں گے۔صوفیاءفرماتےہیں کہ حضرت ربیعہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور جنت میں ہی ملیں گے، لہذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔ ‘‘ ([1])
اختیاراتِ مصطفےٰپر تین اَحادیث مبارکہ
(1) زمین کے خزانوں کی کنجیاں :
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے جوامع الکلم بنا کر مبعوث فرمایا گیا ہے اور رُعب کے ساتھ میری مدد فرمائی گئی ہے ایک روز جبکہ میں سو رہا تھا تو میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں دے دی گئیں۔‘‘([2])
(2) صحابی رسول اور روزے کا کفارہ:
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں ہلاک ہوگیا۔ ‘‘ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے استفسار فرمایا: ’’ كس چیز نے تمہیں ہلاک کیا ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ میں نے روزے کی حالت میں اپنی زوجہ سے صحبت کرلی ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ کیا تمہارے پاس ایک غلام ہے کہ جسے تم کفارہ کے طور پر آزاد کردو؟ ‘‘ اس نےعرض کی : ’’ نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’ کیا تم ساٹھ 60مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوگئے۔ کچھ دیر بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بار گاہ میں ایک کھجوروں سے بھرا ہوا ٹوکرا پیش کیا گیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص سے فرمایا : ’’ یہ ٹوکرا اٹھالو اور اس کی تمام کھجوریں صدقہ کردو۔ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ کیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی فقیر ہے؟ مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کوئی گھر والامجھ سے زیادہ محتاج نہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اتنا مسکرائے کہ آپ کی مبارک ونورانی داڑھیں ظاہر ہوگئیں ۔ ارشاد فرمایا: ’’ جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلادو۔ ‘‘ ([3])
(3) صحابی رسول اور قربانی کا جانور:
حضرتِ سَیِّدُنا بَراء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو بُردَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عید کی نماز سے پہلے اپنی قربانی کرلی تو حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے ارشادفرمایا: ’’ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو۔ ‘‘ وہ عرض گزار ہوئے: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے پاس تو چھ مہینے کا بکری کا بچہ ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا شعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع