30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانی لایا کرتا تھا، ایک دن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (کے جودوکرم کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور آپ) نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ (اے ربیعہ!) مانگ کیا مانگتا ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں ۔“آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اس کے علاوہ اور کچھ؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ بس یہی۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔‘‘
سَیِّدُنَا ربیعہ بن کعب کامختصرتعارف:
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ابوفراس ہے، اسلمی ہیں ، اصحاب صفّہ میں سے تھے، قدیم الاسلام صحابی ہیں ، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سفر وحضر کے خاص خادم ہیں ، سن ۶۳ ہجری میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاوصال ہوا۔ ([1])
رسول اللہ کی کرم نوازی کی وجوہات:
مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا : ’’ مانگو! کیا مانگتے ہو؟ “شارحین نے اس کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ،
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا:”مانگوکیا مانگتے ہو؟ یعنی مجھ سے اپنی حاجت بیان کرو۔ ‘‘
علامہ ابن حجر ہیتمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :”یعنی تم نے جو میری خدمت کی ہے اُس خدمت کے صلے میں ، میں تمہیں تحفہ دوں ۔ کیونکہ کریموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ جو اُن کی خدمت کرتا ہے اُسے اِنعامات سے نوازتے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زیادہ کریم کوئی نہیں ۔ ‘‘ ([2])
رسول اللہ کے اِختیارات کی وُسعت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا صراحتاً بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مطلقاً فرمایا کہ ”مانگو جو مانگنا ہے۔“اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو زمین وآسمان ودنیا وآخرت کے تمام خزانوں پر ایسا اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ جسے چاہیں جو چاہیں عطا فرمادیں اسی وجہ سے ہمارے ائمہ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں اس بات کو شمار فرمایا ہےکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کا اختیار ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی بھی حکم کے ساتھ چاہیں تو خاص فرمادیں ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا خزیمۃ بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی گواہی کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوشخصوں کی گواہی کے برابر فرمایا۔حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ایک خاص خاندان کے لیے نوحے کی اجازت عطا فرمائی۔علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ شارِع یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عام حکم سے جس کو چاہیں خاص فرمادیں ۔ جیسے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوبُردہ بن نیار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اُن کے علاوہ بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے لیے چھ ماہ کے بکرے کی قربانی کو جائز فرمایا۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خصوصیات میں اس بات کو بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جنت کی زمین کا مالک کردیا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں ۔ ‘‘ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع