30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں اِس لیے نبی کریم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس قُرب کو جوتے کے تسمے سے تشبیہ دی یعنی ایک قدم میں جنت ہے اور ایک قدم میں دوزخ۔ ‘‘ ([1])
معمولی عمل سے دُخولِ جنت وجہنم:
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جنت و دوزخ میں داخل ہونا اَعمالِ صالحہ اور گناہوں کی کثرت پر موقوف نہیں بلکہ معمولی نظر آنے والی بُرائی بھی جہنم میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے والی چھوٹی سی نیکی بھی بندے کو جنت میں داخل کرواسکتی ہے۔ خداوندِ کریم کے یہاں اگر ایک نیکی بھی مقبول ہوجائے تو وہ بندے کی نجات کا سبب بن جاتی ہے۔ امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جس بندے کی کوئی ایک بھی نیکی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہوگئی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ ([2])
کسی بھی عمل کو معمولی نہ سمجھو:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اعمالِ صالحہ بندے کو بہشت تک پہنچا دیتے ہیں اور مَعَاصی کے اِرتکاب سے بندہ آتش دوزخ کے قریب تر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات یہ بہشت و دوزخ کی نزدیکی بہت آسان دکھائی دینے والے عمل سے وقوع پزیر ہو جاتی ہے لہٰذا مؤمن کو چاہیے کہ وہ کسی بھی نیک عمل کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑے اور کسی بھی بُرائی کو معمولی سمجھ کر نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جس گناہ کو وہ چھوٹا گمان کر رہا ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک وہ بہت بڑا گناہ ہو۔بےشک مؤمن اس نیکی کو نہیں جانتا جس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر رحم فرمادے اور اُس گناہ کو بھی نہیں جانتا جس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ناراض ہوجائے۔ (لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ہر قسم کے نیک اَعمال بجالائے اور ہر طرح کے گناہوں سے اجتناب کرے۔) ‘‘ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بسا اوقات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے والی چھوٹی سی نیکی بڑے بڑے گناہوں پر غالب آجاتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لیے زبان سے نکلے ہوئے چند کلمات بارگاہِ ربُّ الْعِزَّت میں بندے کی نجات کا سبب بن جاتے ہیں ۔اسی ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ فرمائیے:
اللہ اکبرکہنے کی برکت:
ابو بکر محمد بن ابراہیم کلاباذی نے ” بحر الفوائد“ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بھتیجا شراب پینے کا عادی تھا ، وہ بیمار ہوا تو اس نے مجھے ملاقات کے لیے پیغام بھیجا ، میں اس کے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو سیاہ رنگ کے فرشتے اس کے پاس بیٹھے ہیں ۔میں نے کہا :”اِنَّالِلّٰہِ (یعنی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) میرا بھتیجا ہلاک ہو گیا۔ ‘‘ اتنے میں گھر کے روشن دان سے دو سفید فرشتوں نے اندر جھانکا۔ایک نے دوسرے سے کہا : ’’ نیچے اترو اور اس نوجوان کے پاس جاؤ۔ ‘‘ جب وہ نیچے آیا تو دونوں سیاہ فرشتے وہاں سے چلے گئے ، اس سفید فام فرشتے نے آ کر نوجوان کے منہ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی ذکر نہیں پایا ۔ ‘‘ پھر پیٹ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں روزے کی خوشبو نہیں پائی اور پاؤں کو سونگھالیکن اس میں بھی نماز کی خوشبو نہیں پائی۔ ‘‘ پھر وہ فرشتہ اپنے ساتھی سے جا کرافسوس کرتے ہوئے کہنے لگا:”اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ یہ شخص اُمَّت ِ محمد یہ میں سے ہے لیکن میں نے اس میں کوئی بھلا ئی نہیں پائی۔ ‘‘ اس کے ساتھی فرشتے نے اس سے کہا : ’’ افسوس ہے تجھ پر!تو کیسی بات کہتا ہے، تو دوبارہ اس کے پاس جا اور غور سے جائزہ لے۔ ‘‘ وہ فرشتہ دوبارہ اس نوجوان کے پاس آیا اور اس نے پھر اس کے منہ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی ذکر نہیں پایا ۔ ‘‘ پھر پیٹ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں روزے کی خوشبو نہیں پائی۔ ‘‘ پھر پاؤں کوسونگھااور کہا: ’’ اس میں بھی نماز کی خو شبو نہیں پاتا۔ ‘‘ یہ سن کر دوسرا فرشتہ کہنے لگا: ’’ یہ شخص اُمَّت محمد یہ میں سے ہے اور اس کے پاس ایک بھی نیکی اور بھلائی کی بات نہ ہو ، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بس تم اُوپر چڑھو میں خود جا کر دیکھتا ہوں ۔ ‘‘ چنانچہ اس دوسرے فرشتے نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع