30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ ([1])
جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے سے بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں اور جس طرح اس تسمے میں انگوٹھا داخل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے یوں ہی جنت و دوزخ میں داخلہ بھی بہت سہل، اِسی قُرب و سَہل کو شارِحین نے مختلف انداز سے بیان کیاہے۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طَیِّبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث میں جنت و دوزخ کی قُرْبَتْ کو جوتے کے تسمے کی قُرْبَتْ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ثواب وعذاب کا حصول بندے کی اپنی کوشش سے ہوتا ہے اور کوشش قدموں کے ذریعے ہوتی ہے۔ توجو شخص کوئی نیک کام کرے گاوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدے کی وجہ سے جنت کا مستحق ہوگااور جو بُرا عمل کرےگا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وعید کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوگا ۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اچھی نیت اور نیک اَعمال کے ساتھ جنت کا حصول نہایت آسان ہے اور اسی طرح خواہشاتِ نفس کی پیروی اور بُرے اعمال کے ذریعے جہنم کا داخلہ بھی۔ ‘‘ ([3]) (یعنی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دائمی طورپر نیک اَعمال کرنے سے جنت میں داخل ہونا آسان ہوجاتا ہے اور اسی طرح نفس کی اتباع کرنے سے جہنم میں داخل ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوجاتے ہیں ۔)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں اس بات کو بیان کیا جارہا ہے کہ آدمی کو اپنی آخرت کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے اور ہر اُس فعل سے اِجتناب کرنا چاہیے کہ جو آخرت کے لیے نقصان دہ ہو کیونکہ آتشِ دوزخ کے بندے سے قریب ہونے کے بارے میں حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں آگاہ فرمادیا ہے اور اب اس صورت حال میں تھوڑی سی بھی لا پرواہی خسارے کا باعث بن سکتی ہے۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت جنت تک لے جاتی ہے اور نافرمانی دوزخ کے قریب کرتی ہے اور یہ جنت و دوزخ سے قریب ہونا کبھی کسی چھوٹے عمل کی وجہ سے بھی ہوتا ہے (یعنی عمل تو بظاہر بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس عمل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا یا ناراضی ہوتی ہے۔) حضور نبی اَکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ بعض اوقات اِنسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاوالا ایسا کلام کرتاہے کہ جس کو وہ خود بھی کوئی اَہمیت نہیں دیتا لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کلام کے سبب اِس بندے کے حق میں قیامت تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی والا ایسا کلام کرتا ہے جس کی یہ کوئی پرواہ نہیں کرتا لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس بات کی وجہ سے قیامت تک اِس بندے سے ناراض ہوجاتا ہے۔ ‘‘ ([4])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ کبھی منہ سے ایک بُری بات نکل جاتی ہے تو ساری عمر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں اور بندہ دوزخی ہوجاتا ہے اور کبھی منہ سے ایک بات اچھی نکل جاتی ہے جو ربّ کو پسند ہو اس سے بندہ کے عمر بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ جنتی ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ ایک لفظ میں جنت و دوزخ ہے، چونکہ جنت ودوزخ اپنے عمل سے ملتی ہیں اور اُن کے راستے عمل کے قدموں سے طے ہوتے
[1] دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۲۳، تحت الحدیث: ۱۰۵ ملخصا۔
[2] شرح الطیبی، کتاب الدعوات ، باب سعۃ رحمۃ اللہ ،۵ / ۱۳۴، تحت الحدیث: ۲۳۶۸۔
[3] فتح الباری،کتاب الرقاق،باب الجنۃ اقرب۔۔۔ الخ ،۱۲ / ۲۷۴، تحت الحدیث: ۶۴۸۸۔
[4] شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار باالشھوات،۱۰ / ۱۹۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع