30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں سب کا حساب نہ ہوگا، بعض لوگ حساب سے مستثنی ٰبھی ہوں گے۔ ‘‘ ([1])
(3) بِلاحساب جنت میں داخل ہونے والوں کی خصوصیات :
حدیثِ مذکور میں جنتیوں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں : (۱) نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کراتے ہیں ۔حضرت سَیِّدُنَاابو الحسن قابِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ یہاں وہ جھاڑ پھونک مراد ہے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ورنہ وہ دم وتعویذ جو کلامِ الٰہی پرمُشتمل ہو وہ شارِع عَلَیْہِ السَّلَامنے خود بھی کیا اور اُمَّت کو بھی اِس کی تعلیم دی اور ایسا دم وتعویذمقامِ تو کل سے نہیں نکالتا۔ ‘‘ (۲) بدفالی نہیں لیتے۔ یعنی وہ پرندوں وغیرہ سے بدشگونی نہیں لیتے جیسا کہ اِسلام سے پہلے اُن کی عادت تھی۔ بد شگونی شر میں ہوتی ہےجبکہ فال خیر میں ۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فال (نیک شگون) کو پسند فرماتے تھے۔ ([2]) (۳) اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں ۔ اَسباب اختیار کرتے ہوئے کسی کام کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کردینا ”توکل“ کہلاتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں بِلا عذاب و حساب جنت میں داخلے کی خوشخبری دی گئی ہے اگر وہ ظالم اور گناہ گار ہوں کیا پھر بھی جنت میں داخل ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اِن اَوصاف کے ساتھ ساتھ عدل و اِنصاف کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے بھی ہوں گے۔ یا پھر اِن اَوصاف کی بدولت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن کے گناہ بخش دے گا اور اُن کی خطائیں مٹا دے گا۔ ([3])
حضرتِ سَیِّدُنَا عُکَّاشَہ بِن مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:
یہ مشہور صحابی ہیں ، بدر اور بعد ِبدر تمام غزوات میں شریک ہوئے۔بدر میں آپ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضورِ اَنورشفیع روزِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو کھجور کی چھڑی عنایت فرمائی جو آپ کے ہاتھ میں پہنچتے ہی تلوار بن گئی۔سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو جنت کی بشارت دی۔ 45 سال عمر پائی، خلافتِ صدیقی میں وفات ہوئی۔ آپ سے حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ، سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماور خود آپ کی بہن حضرت سَیِّدَتُنَا اُمّ قَیْس بنت مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے روایات لی ہیں ۔ ([4])
دوسرے شخص کےلیے دعا کیوں نہیں کی گئی؟
حضرت سَیِّدُنَا عُکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بعد ایک اور شخص نے بارگاہِ رِسالت میں دعا کے لیے عرض کی۔اُس شخص کے بارے میں مُحَدِّثِیْنِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اِختلاف ہے۔عمدۃ القاری میں ہے: ایک قول کے مطابق وہ شخص منافق تھا۔سر کارِ دو عالم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے اَحسن اَنداز میں جواب دیا کہ شاید وہ توبہ کر لے اور راہِ راست پر آجائے۔ ‘‘ ([5])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ایک قول یہ ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وحی کے ذریعے علم ہوگیا تھا کہ عُکاشہ کا سوال قبول کیا جائے گا اور دوسرے شخص کے بارے میں یہ بات واقع نہ ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ خطیب بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْھَادِینے اپنی کتاب ”اَلْاَسْمَاءُ الْمُبْھَمَۃُ فِی الْاَنْبَاءِ الْمُحْکَمَۃِ“ میں فرمایا کہ دوسرے شخص حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ اگر یہ بات درست ہے تو وہ قول باطل ہوجائے گا جس میں کہا گیا کہ وہ شخص مُنَافِق تھا اور دوسرا قول (یعنی حضرت سَیِّدُنَا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ
[1] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۱۰ملتقطا۔
[2] بدشگونی کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۲۸صفحات پر مشتمل کتاب ’’بدشگونی‘‘ کا مطالعہ فرمائیے۔
[3] عمدۃ القاری، کتاب الطب ،باب من اکتویٰ اوکوی غیرہ ۔ ۔۔الخ ،۱۴ / ۶۹۰، تحت الحدیث: ۵۷۰۵ ملتقطا۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۱۰۔
[5] عمدۃ القاری، کتاب الطب ،باب من اکتویٰ اوکوی غیرہ ۔۔ ۔الخ ،۱۴ / ۶۹۰، تحت الحدیث: ۵۷۰۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع