30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے … یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے … مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ وبو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے … جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے … یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
اللہ کے ولی ’’ بشر حافی ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) مرنے کے بعد بندے کا تعلق ہرچیزسے منقطع ہوجاتا ہے سوائے اعمال کے کہ وہ بندے کے ساتھ اس کی قبر میں جاتے ہیں ۔
(2) انسان کا اصل مال جو آخرت میں اس کے کام آئے گا وہی ہے جو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرکے اپنی آخرت کے لیے جمع کرلیا۔
(3) نیک اعمال اچھی صورت میں آکر نیک مؤمن کا دل بہلاتے ہیں ، اسے خوشخبری دیتے ہیں جبکہ بُرے اعمال بُری صورت میں آکر اسے ڈراتے ہیں ۔
(4) نیک اعمال کے سبب بعض قبور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جاتی ہیں اور بُرے اعمال کے سبب بعض قبور جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
(5) دنیا میں جو شخص جتنی زیادہ آسائشوں اور راحتوں میں زندگی گزارتا ہے موت کے بعد اسے ان چیزوں کی جدائی کا افسوس بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
(6) احادیث میں بندے کو نیک اعمال کرنے پر ابھاراگیا ہے کیونکہ جس وقت لوگ اسے قبر میں تنہا چھوڑ کر چلے جائیں گے تو بندہ اپنے نیک اَعمال سے ہی اُنسیت حاصل کرے گا۔
(7) یقیناً سمجھدار وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرے، نیک اور اچھے اعمال بجالائے، بُرے اور گناہوں والے اعمال سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے، بُرے اعمال سے بچنے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائے، دنیا میں رہتے ہوئے قبر وحشر کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :105
جَنَّت و جَہَنَّم تَسْمُوں سے زیادہ قریب
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ. ([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرما یا : ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع