30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ صفحہ۲۰۶ پر ہے: امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک جنازے کے ساتھ قبرِستان تشریف لے گئے، جب لوگوں نے صفیں بنالیں توآپ سب سے پیچھے چلے گئے، وہاں ایک قَبْرکے پاس بیٹھ کر غور وفکر میں ڈوب گئے، آپ کے دوستوں نے استفسار کیا: ’’ اے امیرالمؤمنین! آپ تو میت کے ولی ہیں اور آپ ہی پیچھے چلے گئے۔ ‘‘ کسی نے عرض کی: ’’ یا امیرَالمومنین! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہاں تنہا کیسے تشریف فرما ہیں ؟ ‘‘ فرمایا:ابھی ابھی ایک قَبْر نے مجھے پُکار کربلایا اور بولی: اے عمر بن عبد العزیز! مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں اپنے اندر آنے والوں کے ساتھ کیا برتاؤکرتی ہوں ؟ میں نے اُس قبر سے کہا : مجھے ضَرور بتا۔ وہ کہنے لگی: ’’ جب کوئی میرے اندر آتا ہے تو میں اس کا کفن پھاڑ کرجِسْم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی ہوں اوراس کا گوشت کھا جاتی ہوں ، کيا آپ مجھ سے يہ نہيں پوچھیں گے کہ میں اس کے جوڑوں کے ساتھ کيا کرتی ہوں ؟ ‘‘ میں نے کہا: ضَرور بتا۔ تو کہنے لگی: ’’ ہتھيلیوں کو کلائيوں سے ، گُھٹنوں کوپِنڈليوں سے اور پِنڈليوں کو قدموں سے جُداکرديتی ہوں ۔ ‘‘ اتنا کہنے کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہچکیاں لے کر رونے لگے۔جب اِفاقہ ہوا تو کچھ اس طرح عبرت کے مَدَ نی پھول لٹانے لگے: ’’ اے لوگو! اِس دنیا میں ہمیں بہت تھوڑ ا عرصہ رہنا ہے ، جو اِس دنیا میں سخت گنہگار ہونے کے باوُجُود صاحِب اقتدارہے وہ آخِرت میں انتہائی ذلیل و خوا ر ہے۔ جو اس جہاں ميں مالدار ہے وہ آخرت ميں فقير ہوگا۔اِس کا جوان بوڑھا ہوجائے گا اور جو زندہ ہے وہ مرجائے گا۔ دنیا کا تمہاری طرف آنا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے، کيونکہ تم جانتے ہو کہ يہ بہت جلد رخصت ہوجاتی ہے ۔ کہاں گئے تلاوتِ قرآن کرنے والے؟ کہاں گئے بيتُ اللہ کا حج کرنے والے ؟ کہاں گئے ماہِ رَمَضان کے روزے رکھنے والے ؟ خاک نے ان کے جسموں کا کيا حال کرديا ؟ قبر کے کيڑوں نے اُن کے گوشت کا کيا اَنجام کرديا ؟ ان کی ہڈِّيوں اور جوڑوں کے ساتھ کيا ہوا ؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!دُنيا ميں یہ آرام دِہ نرْم نرْم بستر پر ہوتے تھے ليکن اب وہ اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر راحت کے بعد تنگی میں ہيں ، اُن کی بيواؤں نے دوسرے نکاح کرکے دوبارہ گھر بسالیے، اُن کی اَولاد گليوں میں دربدر ہے، اُن کے رشتہ داروں نے اُن کے مکانا ت وميراث آپَس میں بانٹ لی۔ وَاللہ!ان میں کچھ خوش نصيب ہيں جو قبروں میں مزے لوٹ رہے ہيں اوروَاللہ! بعض قبر میں عذاب میں گرفتار ہيں ۔
افسوس صد ہزار افسوس، اے نادان! جو آج مرتے وَقت کبھی اپنے والِد کی ، کبھی اپنے بیٹے کی توکبھی سگے بھائی کی آنکھیں بند کر رہا ہے، ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ، کسی کو کفن پہنا رہا ہے، کسی کے جنازے کو کندھے پر اُٹھارہا ہے ، کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے، کسی کو قبر کے گڑھے میں اُتارکردفنا رہا ہے۔ یاد رکھ! کل یہ سبھی کچھ تیرے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔ کاش! مجھے علْم ہوتا! کون سا گال قبر میں پہلے خراب ہوگا۔ ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزيز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ايک ہفتے کے بعد اس دنيا سے تشريف لے گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!ہماری بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آگیا ہے، ہم کب تک اس غفلت کا شکار رہیں گے؟ قیامت کی ہولناکیاں ہمارےسامنے ہیں کہ جس دن باپ اپنی اولاد سے بھاگے گا، ماں کی مامتا بھی اس دن کسی کام نہ آئے گی، اس وقت انتہائی افسوس ہوگاجب ہمارے اعمال کا حساب ہوگا، ہم سوکھی ہوئی اس گھاس کی مانند ہو جائیں گے جس کو ہوائیں اِدھر سے اُدھر پھینک رہی ہوتی ہیں ۔ ہم کب تک اس غفلت میں مبتلا رہیں گے؟ حالانکہ توبہ کی قبولیت کا علم تو ظاہر ہو چکا ہے۔اے خواہشات کے سمندر میں غرق ہونے والو! نجات کی کشتی پرسوارہوجاؤاور اپنے اعمال سے برائیوں کا خاتمہ کردو، اپنے نفس کو ندامت کے ساحل پر ڈال دو، پھر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بہت زیادہ کرَم فرمانے والاپاؤ گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگا ہ میں ذِلّت اور عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلاؤ اور اس گھڑی گریہ وزاری کرتے ہوئے پکارو!اے وہ ذات جس کی نافرمانی کرنااس کو نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی جس کی اطاعت کرنااس کو کوئی فائدہ دیتی ہے! یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری خرابیوں کے بدلے درستی عطا فرما اور خسارے کے عوض نفع عطا فرما۔ اے وہ ذات جس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہے! اپنی رحمت سے ہمارے معاملے میں درگزرفرما، ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما، تاکہ ہماری قبر اچھی ہو، ہمارا حشر اچھا ہو، کل بروزِ قیامت ہم تیری رحمت کے سائے میں ہوں ، اے ربّ کریم! ہمیں دُنیوی سوچوں سے نجات دلاکر اُخروی مدنی سوچ عطا فرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع