30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ عمل سے مراد میت کے وہ اَفعال و اَقوال ہیں جن پر ثواب و عذاب مُرَتَّب ہوتا ہے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ’’ قبر عمل کا صندوق ہے۔ ‘‘ اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’ قبر یاتو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ ‘‘ ([1])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اَعمال سے مراد سارے اچھے بُرے عمل ہیں جو میت نے اپنی زندگی میں کیے ۔اَعمال کے ساتھ جانے سے مراد ا ُن کا میت کے ساتھ تعلق ہے جو مرنے کے بعد قائم رہتا ہے۔نیک اَعمال جو قبول ہوگئے ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتے ہیں ، بُرے اَعمال شفاعت، بخشش یا سزا بھگتنے تک چمٹے رہتے ہیں ، اِن چیزوں کے بعد پیچھا چھوڑتے ہیں ، جس پر مولیٰ رحم کرے، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جسے سنبھال لیں اُس کا بیڑا پار ہے، قبر اَعمال کا صندوق ہے یا دوزخ کی بھٹی ہے یا جنت کی کیاری، اِس لیے بزرگوں کی قبر کو روضہ کہتے ہیں یعنی جنت کا باغ۔‘‘ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں علم وحکمت کے کئی مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں وہیں ہمیں قبر وآخرت کی تیاری کا بھی مدنی ذہن ملتا ہے۔ بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنی دُنیوی زندگی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں میں گزارنے کی کوشش کرتا ہے، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایمان وعافیت کے ساتھ قبر میں چلا جاتا ہے اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو دنیا کی عیش کوشیوں میں اپنا قیمتی وقت برباد کرتا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ناراضی والے کاموں میں لگا رہتا ہے، حتی کہ اندھیری قبر میں اُتار دیا جاتا ہے۔شیخ طریقت، امیر اہلسنت اپنے رسالے ”مُردے کے صدمے“صفحہ7 پر فرماتے ہیں : افسوس ! ہم صدموں سے بھر پور موت کی تیاری سے یکسر غافل ہیں ۔دنیا کی ہر وہ چیز جس سے زندگی میں آدمی کو محبت ہوتی ہے مرنے کے بعد اس کی یاد تڑپاتی ہے اور صدمہ مُردے کے لیے نا قابل برداشت ہوتا ہے ۔اس بات کو یوں سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ جب کسی کا پھول جیسا اکلوتا بچہ گم ہو جائے تووہ کس قدر پریشان ہوتا ہے اور اگر ساتھ ہی اس کا کا روبار وغیرہ بھی تباہ ہو جائے تو اس کے صدمے کا کیا عالَم ہوگا ؟ نیز اگر وہ افسر بھی ہو اور مصیبت با لائے مصیبت اس کا وہ عہدہ بھی جاتا رہے تو اس پر جو کچھ صدمے کے پہاڑ ٹوٹیں گے اس کو وہی سمجھے گا۔اب چونکہ آدمی کے مر جانے کے باوجود اس کی عقل سلامت رہتی ہے ، لہٰذ ا اس کو والدین ، بیوی بچوں ، بھائی بہنوں ، اور دوستوں کا فِراق (جدائی) نیز گاڑی ، لباس، مکان ، دکان، فیکٹری، عمدہ پلنگ ، فرنیچر ، کھیل کود کا سامان ، کھانے پینے کی چیزوں کا ذخیرہ ، خون پسینے کی کمائی، عُہدہ وغیرہ ہر ہر چیز کی جُدائی کا صدمہ ہوتا ہے اور جو جتنا زیادہ راحتوں میں زندگی گزارتاہے مرنے کے بعد اُن آسائشوں کے چھوٹنے کا صدمہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ جس کے پاس مال ودولت کم ہو اُس کو اُس کے چھوٹنے کا غم بھی کم اور جس کے پاس زیادہ ہو اس کو چھوٹنے کا غم بھی زیادہ ۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ یہ اِنکشاف جان نکلتے ہی تدفین سے پہلے ہو جاتا ہے اور وہ فانی دنیا کی جن جن نعمتوں پر مطمئن تھا اُن کی جدائی کی آگ اُس کے اَندر شُعْلَہ زَن ہوتی ہے۔ ‘‘ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذرا سوچئے، قبر کی اندھیری رات کیسی ہوگی؟ جب قبر میں مُردے کو لٹایا جاتا ہے تو وہ اس کے ساتھ کیا حشر کرتی ہے؟ آئیے قبر کی کہانی قبر کی زبانی سنتے ہیں ، تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۴۷صفحات پر مشتمل کتاب ’’
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع