تین ایمان افروز احادیث مبارکہ
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

نماز بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طفیل ملا ہے،  نیز اگر اس سے کوئی خلل واقع ہوتا تو سَیِّدُنَا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکبھی بھی ایسا نہ فرماتے۔

 (۷)  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان،  تابعین،  تبع تابعین،  اولیائے کرام،  محدثین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سب کا یہ مبارک عقیدہ ہے کہ نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اورتعظیم وتکریم کرنا عینِ ایمان اور شریعت کے مطابق ہے۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار بڑے فقہاء صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتاہے،  کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کے شاگرد تھے،  پھر ان کے بھی کئی شاگرد تھے،  سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اس حدیث مبارکہ کو ہزاروں محدثینِ کرام نے بیان کیا لیکن کسی ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا یا ان کا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم کرناغلط ہے،  بلکہ اس بات کی صراحت کی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ فعل رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادب کی وجہ سے تھا۔

تین ایمان افروز احادیث مبارکہ

واضح رہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ایک کثیر تعداد ہے جنہوں نے اپنی حیاتِ طیبہ کی کئی نمازیں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتداء میں ادا کیں ،  اور یہ تمام حضرات نماز میں اپنی توجہ اور خیال رسولِ اکرم،  نورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی طرف رکھا کرتے تھے،  یہی وجہ ہے کہ آج ہم تک رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نمازوں کا ایک ایک مبارک فعل بعینہ ویسا ہی پہنچا ہے جیسا آپ نے ادا فرمایا کیونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ کی ہرہرادا کو بغور دیکھا کرتے تھے اور اسے یاد رکھا کرتے تھے،  نیز دیگر نئے مسلمانوں کو اس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ذخیرۂ احادیث میں ایسی کثیر احادیث موجود ہیں جن میں اس بات کا بیان ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا خیال نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک ذات کی طرف ہوتا تھا اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں بھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام وتعظیم وتکریم کیا کرتے تھے۔تین احادیث مبارکہ پیشِ خدمت ہیں :

پہلی حدیث مبارکہ:

حضرت سَیِّدُنَا سہل بن ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنی عَمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے،  جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا اور عرض کی کہ  ’’ حضور! میں اقامت کہوں تو آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟   ‘‘ فرمایا: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ چنانچہ سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جماعت کروائی،  دورانِ نماز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے آئے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہوگئے،  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ہاتھ پر ہاتھ مار کر سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو مُتَوَجِّہ کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لاچکے ہیں لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز میں ایسے منہمک ہوتے تھے کہ اِدھر اُدھر توجہ ہی نہ فرماتے۔ پس جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زیادہ آواز پیدا کی تو انہوں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ لیااور اپنی جگہ چھوڑنے لگے لیکن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اِشارے سے منع فرمایاکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہلیں ،  وہیں کھڑے رہیں ۔ اس پر انہوں نے ہاتھ بلند کیے اور ربّ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں شکر ادا کیا۔ پھر آپ پیچھے ہٹے یہاں تک کہ صف کے برابر کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآگے تشریف لے گئے اورنماز پڑھائی۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہوئے تو سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے استفسار فرمایا:  ’’ اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا تھا تو تم پیچھے کیوں ہٹے؟  ‘‘  عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے یہ رَوا نہیں کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگے نماز پڑھائے۔ ‘‘  ([1])

اس حدیث پاک سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں موجود تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خیال اور توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف گئی اور انہوں نے آپ کی تعظیم کی خاطر جگہ چھوڑی،  بعد اَزاں سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بھی توجہ اور خیال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف گیا اور انہوں



[1]   بخاری، کتاب الاذان، باب من دخل لیؤم الناس۔۔۔الخ، ۱ / ۲۴۴، حدیث:  ۶۸۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن