30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غلط خیال پیدا ہوامگر اللہنے انہیں بچالیا۔ ([1])
*……اِمام کی مخالفت بُری ہے: عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں امام کے کسی فعل کے خلاف کرنا بُرا کام ہے۔
*……اِبہام کی وضاحت طلب کرنے کا جواز: یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کے قول یا فعل میں کچھ ابہام ہو تو اس کے بارے میں دریافت کرنا جائز ہے، اسی لیے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اور پھر انہوں نے آپ کی بات کو سمجھ لیا، نیز سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی انہیں سوال کرنے سے منع نہ کیا۔ ([2])
نماز میں رسول اللہکا خیال اور ادب واحترام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں راویٔ حدیث یعنی حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حوالے سے درج ذیل دو باتیں نہایت ہی ایمان افروز ہیں :
(۱) پہلی بات تو یہ کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز ادا کررہے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کررہے ہیں ، مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاخیال اور توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مبارکہ کی طرف لگے ہوئے تھے کہ ہوسکتا ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمابھی رکوع میں تشریف لے جائیں یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھک گئے اور آپ کے دل میں قیام چھوڑ کر بیٹھنے کا خیال آیا۔
(۲) دوسری بات یہ کہ طویل قیام اور تھکاوٹ کے سبب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں قیام چھوڑ کر بیٹھ جانے کا خیال پیدا ہوا جسے آپ نے بُرا خیال تصور کیا مگر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ادب واحترام اور تعظیم کی خاطراُسے عملی جامہ نہ پہنایا۔
مذکورہ بالا دونوں ایمان افروز باتوں سے علم وحکمت کے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:
(۱) نماز میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال دل میں آنے اور اپنی توجہ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف لگادینے سے نماز میں کوئی فرق نہیں آتا۔
(۲) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں بھی اپنی توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف لگائے رکھتے تھے۔
(۳) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، جبھی تو سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف لگی ہوئی تھی۔
(۴) نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف توجہ کرنا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ نماز کی معراج اور عینِ ایمان ہے، کیونکہ اگر یہ کوئی معیوب بات ہوتی تو سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسے جلیل القدر صحابی کبھی بھی ایسا نہ فرماتے۔
(۵) جس طرح بیرونِ نماز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم ضروری ہے ویسے ہی دورانِ نماز بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اورتعظیم وتکریم بہت ضروری ہے۔
(۶) نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم کرنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ہمیں یہ عظیم تحفہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع