دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

ترجمہ  : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت ہی طویل قیام فرمایا یہاں تک کہ میرے دل میں ایک بُرا خیال آیا۔ ‘‘  پوچھا گیا  کہ کیا بُرا  خیال آیا؟  تو فرمایا: ’’ میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قیام میں چھوڑ کر بیٹھ جاؤں ۔ ‘‘

بیٹھ جانے کے اِرادے کی وجہ:

فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تندرست قوی جوان تھے اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیوانے اور اتباع کے شوقین تھے۔ پھر انہوں نے بیٹھنے کا ارادہ اسی وقت کیا ہوگا جبکہ وہ بہت تھک گئے ہوں گے اتنا کہ کھڑا رہنا دشوار ہوگیا ہوگا۔اوریہ اسی وقت ہوگا جبکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قیام بہت طویل ہو۔ ‘‘  ([1])

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ نمازِتہجدتھی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عام طورپر جتنا قیام فرماتے اُس سے بہت زیادہ طویل قیام آپ نے  اس نمازِتہجد میں فرمایا۔ ‘‘  ([2])

قلبی اِرادے کو بُرا سمجھنے کی وجوہات:

حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجب تھک گئے تو بیٹھنے کا اِرادہ کیا لیکن بیٹھے نہیں  اور اپنے اِس اِرادے کو بُرا خیال کیا جبکہ آپ نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتداء میں جو نماز پڑھی وہ نفل نماز یعنی نمازِتہجدتھی اور نفل میں بیٹھنا جائز ہے تو پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک جائز کام کے اِرادے کو بُراخیال کیوں کہا؟  شارِحینِ حدیث نے اس کی کئی وُجُوہات بیان فرمائی ہیں ۔چنانچہ،

عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :  ’’ ہر چند کہ نفلی نماز میں بیٹھنا جائز ہے اس کے باوجودحضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نماز میں بیٹھنے کو بُرا خیال قرار دینا محض اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَدَب کے پیش نظرتھا کیوں کہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے رہیں اورعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیٹھ جائیں یہ امر اَدب کے خلاف تھا اور اِس میں ظاہری اِعتبار سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت بھی تھی۔ ‘‘  ([3])

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ امام کی مخالفت بہت بری بات ہے جبھی تو حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے امام کی مخالفت میں آنے والے خیال کو بُرا فرمایا  (اور اگر امام حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں تو یہ اور بھی زیادہ برا ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مخالفت کرنے سے ربّ عَزَّ  وَجَلَّنے منع فرمایا ہے اور اس پر وعید ہے۔ چنانچہ)  اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۶۳)   (پ:۱۸، النور: ۶۳)

ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔ ([4])

عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ محض رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادب کے پیش نظر نماز میں نہیں بیٹھے۔ ‘‘  ([5]) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نماز میں بیٹھنے کو



[1]   نزہۃ القاری، ۲‏ / ۶۷۹بتصرف قلیل۔

[2]   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱‏ / ۳۲۱، تحت الحدیث: ۱۰۳۔

[3]   ارشادالساری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ،۳‏ / ۲۰۷،تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔

[4]   ارشادالساری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ،۳‏ / ۲۰۷،تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔

[5]   شرح مسلم للنووی کتاب صلوۃ المسافرین ، باب استحباب تطویل القراءۃ۔۔۔ الخ ، ۳‏ / ۶۳ ،  الجزء  السادس۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن