30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے رکوع و سجود کے اَذکار کوئی اور تھے ۔چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں کے نزول سے پہلےمسلمان رکوع وسجدوں میں کوئی اور ذکر کرتے تھے۔ ‘‘ ([1])
مذکورہ حدیث مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طویل رکوع وسجود کا ذکر ہے جبکہ بعض احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ آپ کے رکوع وسجود طویل نہ ہوتے تھے۔دونوں طرح کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ جن احادیث میں رکوع وسجود کی طوالت کابیان ہے ان میں نوافل کی نماز مراد ہے اور جن میں طویل نہ ہونے کا بیان ہے ان میں فرض نماز مراد ہے۔ چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ ان کے سوا باقی اَرکان رکوع سجدہ وغیرہ برابر ہوتے تھے نہ بہت دراز نہ بہت مختصر بلکہ درمیانے، یہ عام (یعنی فرض) نمازوں کا ذکر ہے، (جبکہ) سورج گرہن کی (نفل) نماز میں رکوع سجدہ، قیام کے برابر تھے۔ ‘‘ ([2])
مدنی گلدستہ
’’ چل مدینہ ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ عظیم سعادت حاصل تھی کہ منافقین کے متعلق آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراز تھے۔
(2) نماز تہجد کی ادائیگی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظیم سنت ہے۔
(3) نوافل میں اقتداء کرنا اور نماز تہجد کو طویل کرنا دونوں سنت سے ثابت ہیں ۔
(4) قرآنی سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اس لیے فرض نماز میں خلاف ترتیب سورتوں کی تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے البتہ سجدۂ سہو کا حکم نہ ہوگا کہ یہ قراءت کے واجبات میں سے ہے نماز کے نہیں ۔
(5) نوافل میں خلافِ ترتیب قراءت کرنا جائز ہے کہ یہ نص سے ثابت ہے۔
(6) چھوٹے بچوں کو ضرورتِ تعلیم کی وجہ سے خلافِ ترتیب پڑھانا جائز ہے۔
(7) رکوع میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم اور سجدے میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھنا سنت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کی کثرت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے، ہمیں نماز تہجد کی ادائیگی جیسی عظیم سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :103
نَمَازِ تَہَجُّد میں طویل قِیام کرنا
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً، فَاَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ہَمَمْتُ بِاَمْرِسُوْ ءٍ، قِیْلَ وَمَا ہَمَمْتَ بِہٖ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہُ. ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع