30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عبرت نشان شہوت کی مذمت، اس سے بچنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری پر اُبھارنے کے بارےمیں انتہائی جامع مانع اور بلیغ کلام ہے اگرچہ نفوس پر یہ بہت بھاری اور شاق ہے ۔لیکن قیامت کے دن جنت اور دوزخ کے سوا کوئی تیسرا ٹھکانہ نہ ہوگا اور ان میں سے کسی ایک میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا تو پھر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اُن اعمال کو بجا لائیں جو جنت میں لے جانے والے اور جہنم سے بچانے والے ہوں ۔ اگر چہ یہ کام دشوار ہیں لیکن آگ کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور اسے برداشت کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے۔ ‘‘ ([1])
حضرت سَیِّدُنَا شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ آتشِ دوزخ کا پردہ شہوات ہیں ، جب بندہ اُن کا ارتکاب کرتا ہے تو دوزخ تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح جنت سختیوں میں پوشیدہ ہے کیونکہ جب انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرتا ہے، شہوات و لذات سے اپنے آپ کو روکتا اور نفس کو اُن سختیوں میں ڈالتا ہے تو اس پردے کو چاک کرکے اس جنت تک پہنچ جاتا ہے جو اُن تکالیف کے پیچھے ہے۔اس حدیث پاک سے ”اَلْعِلْمُ حِجِابُ اللہ یعنی علم اللہ عَزَّ وَجَلَّکا پردہ ہے۔ ‘‘ کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ علم، خدا اور بندے کے درمیان پردہ ہے جب انسان علم کے پردے تک جا پہنچتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے علامہ ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شہوات کی پیروی کرنے والا تقوے سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر شہوات بندے کی سماعت و بصارت چھین لیتی ہیں کہ وہ ان شہوات کو تو دیکھتا ہے لیکن دل پر جہالت و غفلت غالب ہونے کی وجہ سے ان شہوات کے پیچھے بھڑکتی ہوئی جہنم کو نہیں دیکھ پاتا۔ اِس شخص کی مثال اس پرندے جیسی ہے کہ جو چھپے ہوئے جال میں موجود دانے کو تو دیکھتا ہے مگر دل پر اس دانے کی خواہش غالب ہونے کی وجہ سے اس جال کو نہیں دیکھ پاتا جو شکاری نے اسے پھانسے کے لیے بچھایا ہوتا ہے پھر وہ پرندہ اس میں پھنس جاتا ہے۔ ‘‘ ([3])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ وہ شہوات جن سے دوزخ کو ڈھانپا گیا ہے وہ حرام شہوات ہیں جیسے شراب پینا، زناکرنا، نامحرم کو دیکھنا، غیبت کرنا اور گانے باجے کے آلات استعمال کرنا اور اُن جیسے دیگر بُرے اَفعال۔وہ شہوات جو حرام نہیں بلکہ مباح ہیں وہ اس میں داخل نہیں لیکن اُن کا کثرت سے کرنا بھی مکروہ ہے کیونکہ کثرت سے مباحات میں منہمک ہونے سے حرام کام میں مشغول ہونے یا دل کے سخت ہونے کا خوف ہےیا پھر بندے کا نیکیوں سے ہٹ کر دُنیوی لذتوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ ‘‘ ([4])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ شہوات سے مراد حرام اُمور ہیں ورنہ جو مباح خواہشات ہیں وہ دوزخ میں داخلے اور جنت میں نہ جانے کا سبب نہیں البتہ مباحات کی کثرت مقامِ قرب و وِلایت سے دُور کردیتی ہے۔ ‘‘ ([5])
[1] شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات، ۱۰ / ۱۹۸۔
[2] اشعۃ اللمعات،کتاب الرقاق، الفصل الاول،۴ / ۲۰۲۔
[3] ارشاد الساری، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار بالشھوات،۱۳ / ۵۶۶، تحت الحدیث: ۶۴۸۷۔
[4] شرح مسلم للنووی،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا ،۹ / ۱۶۵،الجزء السابع عشر ۔
[5] اشعۃ اللمعات،کتاب الرقاق، الفصل الاول،۴ / ۲۰۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع