دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

سَیِّدُنَا ”فاروقِ اعظم“کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول

(1)   ہرحال میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسہ کرنا،  اِطاعت خداوندی میں مشقت اٹھانا،  لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرنا اور ہر حال میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا پرراضی رہنا قوی مؤمن کی صفات ہیں لہٰذا ان ہی صفات کو اختیار کرنا چاہیے۔

(2)   بھلائیوں میں سے سب سے افضل بھلائی ایمان ہے اور ہرمسلمان صاحبِ ایمان ہوتا ہے لہٰذا مسلمان چاہے قوی ہو یا ضعیف وہ بھلائی ہی میں ہے۔البتہ عند اللہ دونوں کے مراتب جدا ہیں ۔

(3)   حرص فی نفسہٖ بُری شے نہیں اس کا اچھا یا بُرا ہونا اس کے استعمال پر ہے،  اگر حرص نیکیوں پر ہو تو یہ قابلِ تعریف ہے اور اگر دنیا وی معاملات میں  (بُری نیت کے ساتھ )  ہو تو یہ قابل مذمت ہے لہذا دُنیوی غَرض سے بچتے ہوئے اُخروی یعنی نیکیوں کا حریص بنناچاہیے۔

(4)   نیک اَعمال کی توفیق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی دیتا ہے جب تک اس کی مدد شامل نہ ہو اَعمالِ صالحہ یعنی نیک اَعمال بجالانا بھی ممکن نہیں ،  لہذا ہردم توفیقِ الٰہی طلب کرنی چاہیے۔

(5)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ہمارے مُقَدَّر میں جو آزمائش لکھی ہے اس پر صبر کرنا چاہیے اورناشکری کے الفاظ اپنی زبان پر لا کر اجر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

(6)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مشیت پر ہر حال میں راضی رہنا چاہیے اور چاہے کیسی ہی آزمائش آئے تقدیر پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

(7)   اپنے ہر ہر معاملے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تقدیر پر یقین رکھنا چاہیے۔

(8)   اگر،  مگر اور کاش وغیرہ کے الفاظ استعمال کرنے سے تقدیر کے انکار کا وہم پیدا ہوتا ہے لہذا یسے الفاظ استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔

(9)   دینی کاموں کے چھوٹ جانے پر لفظِ” اگر“ کہنا  اور افسوس و ندامت  کرنا اچھی بات ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قوی مؤمن بنائے اور ہردم اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے نیز ہمیں تقدیر اِلٰہی پر اعتراض کرنے سے محفوظ و مامون فرمائے۔              آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :101                     

جَہَنَّم اور جَنَّت ڈھانپ دی گئی ہیں

 عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّہَوَاتِ،  وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ  بِالْمَکَارِہِ.  ([1])  وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ:”حُفَّتْبَدَلَ حُجِبَتْوَہُوَ بِمَعْنَاہُ،  اَیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ھٰذَا الْحِجَابِ،  فَاِذَافَعَلَہُ دَخَلَہَا. ([2])

ترجمہ  : حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ دوزخ کو شہوتوں سے اور جنت کو تکالیف ومشقتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ‘‘

مسلم کی ایک روایت میں ”حُجِبَتْ“کی جگہ”حُفَّتْ“ کا لفظ آیا ہے اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی  ’’ بندے اور جنت و دوزخ کے درمیان یہی  (مصیبتیں اور شہوات)  حائل ہیں پس جب وہ اِن اَعمال کو کرے گا تو ان میں داخل ہوجائےگا۔ ‘‘

 



[1]   بخاری، کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات ،۴ / ۲۴۳، حدیث: ۶۴۸۷۔

[2]   مسلم،کتاب الجنۃ  وصفۃ نعیمھا و اھلھا،ص۱۵۱۶، حدیث: ۲۸۲۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن