30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے ہماری کشتی ڈوبنے لگی تو میں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہمیں نجات عطا فرمائی تو یہ تھیلا میں اُسے دوں گا جومجھے مسجد میں سب سے پہلے ملے گا ۔چونکہ سب سے پہلے مجھے آپ ہی نظر آئے اِس لیے یہ سامان آپ کاہے۔ ‘‘ یہ سن کرمیں نے اُس میں سے کچھ چیزیں لیں اوربقیہ ا ُس کے بچوں کے لیے واپس کر دیں ۔پھر میں نے اپنے دل میں کہا: ’’ تیرا رزق دس10دن سے تیرا منتظر تھا اور تو اُسے وادی میں تلاش کررہا تھا۔ ‘‘ ([1])
<
رسول اللہ کے سامنے اُمَّتُوں کا پیش ہونا
عَنِْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ، فَرَاَیْتُ النَّبِیَّ وَمَعَہُ الرُّہَیْطُ، وَالنَّبِیَّ وَمَعَہُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِیَّ وَلَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ، اِذْرُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمْ اُمَّتِیْ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذَا مُوْسٰی وَقَوْمُہُ، وَلَکِنِ انْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ، فَقِیْلَ لِیْ:اُنْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌعَظِیْمٌ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذِہٖ اُمَّتُکَ، وَمَعَہُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفاً یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ نَہَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ، فَخَاضَ النَّاسُ فِی اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمْ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْاِسْلَامِ، وَلَمْ یُشْرِکُوْابِاللّٰہِ شَیْاً، وَذَکَرُوْااَشْیَاءَ، فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الَّذِیْ تَخُوْضُوْنَ فِیْہِ؟ فَاَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ہُمُ الَّذِیْنَ لَایَرْقُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَایَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:اَنْتَ مِنْہُمْ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:سَبَقَکَ بِہَاعُکَّاشَۃُ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاِرشادفرمایا : ’’ میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں تو میں نے ایک نبی ( عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا، اُن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ ایک نبی ( عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا اُن کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ اُن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔اچانک ایک بہت بڑی جماعت میرے سامنے پیش کی گئی تومیں نے خیال کیا کہ شاید یہ میری اُمَّت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ ( عَلَیْہِ السَّلَام) اور اُن کی اُمَّت ہے، البتہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھئے، میں نے دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔مجھے کہا گیا کہ دوسرے کنارے کی طرف دیکھئے تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھ سے کہاگیا:یہ آپ کی اُمَّت ہے اور اِن کے ساتھ سترہزار 70000اَفرادایسے ہیں جو بِلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوئے اور کاشانہ ٔ اَقدس میں تشریف لے گئے ۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہونے والوں کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ بعض نے کہا: ’’ شاید وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحبت یافتہ ہوں گے۔ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ شاید وہ ہوں گے جومسلمان پیدا ہوئے اور پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع