30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والے کو حریص کہتے ہیں ۔ ‘‘ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ حرص کا تعلق صِرْف ’’ مال ودولت ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حرص تو کسی شے کی مزید خواہش کرنے کا نام ہے اور وہ چیز کچھ بھی ہوسکتی ہے، چاہے مال ہو یا کچھ اور!چنانچہ مزید مال کی خواہش رکھنے والے کو ’’ مال کا حریص ‘‘ کہیں گے تو مزید کھانے کی خواہش رکھنے والے کو ’’ کھانے کا حریص ‘‘ کہا جائے گااور نیکیوں میں اِضافے کے تمنائی کو ’’ نیکیوں کا حریص ‘‘ جبکہ گناہوں کا بوجھ بڑھانے والے کو ’’ گناہوں کا حریص ‘‘ کہیں گے ۔ ‘‘
حدیثِ مذکور میں جس حرص کا حکم دیا گیا ہے وہ نیکیوں اور آخرت اور دنیا کی ان چیزوں کی ہے جو ہمارے دین اہل و عیال اور اچھے اَخلاق میں مُعاوِن ثابت ہوں ۔چنانچہعلّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں سے ان چیزوں کو حاصل کرنے میں حرص کرو جو تمہارے دین ، اہل وعیال اور اچھے اخلاق میں تمہاری معاونت کریں اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نفع مند چیزوں کے حصول میں مدد چاہو اور اسی پر تَوَکُّل کرو اور اپنی کوششوں اور اسباب پر اعتماد نہ کرو بلکہ ہر معاملہ میں اس سے امیدرکھو اور اسی پر بھروسہ کرو جس نے اس سے مدد چاہی اس کی مدد کی گئی۔ ‘‘ ([1])
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت و فرمانبرداری پر حرص کرواور اس کے ہاں جو انعام و اکرام ہیں اُن میں رغبت کرو، ان کے حصول میں اس کی مدد طلب کرو اور اس کی فرمانبرداری ومدد طلب کرنے میں سستی نہ کرو۔ ‘‘ ([2])
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ یہاں حرص کا حکم مؤمن قوی کے لیے ہو کہ وہ ان چیزوں پر حرص کرتا رہے جو اس کے لیے نفع بخش ہیں اور کسی بھی صورت اپنی کوشش کو ترک نہ کرےاور ضعیف مؤمن کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے اعمال کی قلت پر نظر رکھ کر عاجز نہ ہو بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد مانگے۔ ‘‘ ([3]) (تاکہ وہ بھی کامل مؤمنین کی فہرست میں شامل ہو جائے۔)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ جو اعمال تمہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچانے والے ہیں تم ان پر حریص ہوجاؤاور اپنے افعال پر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کرو کیونکہ نیک اعمال کی طاقت و قدرت عظمت والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے نیز اس حرص اور مددطلب کرنے سے عاجز نہ ہو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس پرہرطرح قادر ہے کہ وہ تمہیں اپنی اطاعت کی قوت عطا فرمائے بشرطیکہ تم استقامت سے مدد طلب کرتے رہو۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ’’ تم ان چیزوں پر عمل کرنے سے عاجز نہ آؤ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور ان نیک اعمال کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے توفیق طلب کرنے میں کمی کرنے کی وجہ سے ترک نہ کرو۔ ‘‘ ([4])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ جو چیز تم کو دینی نفع دے اس میں قناعت نہ کرو، خوب حرص کرو، اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو مگر اپنی کوشش پر بھروسہ نہ کرو، اللہ پر تَوَکُّل کرو۔ خیال رہے کہ دنیاوی چیزوں میں قناعت اور صبر اچھا ہے مگر آخرت کی چیزوں میں حرص اور بے صبری اعلیٰ ہے دین کے کسی درجے پر پہنچ کر قناعت نہ کرلو، آگے بڑھنے کی کوشش کرو ، ربّ فرماتاہے: ( فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-) (پ:۲، البقرۃ:۱۴۸) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں ۔) حریصِ مال برا مگر حریصِ عمل اچھا، ربّ تعالٰی نے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعریف میں فرمایا: (حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ ) ([5]) (پ:۱۱، التوبۃ:۱۲۸) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔)
[1] دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۱۷، تحت الحدیث: ۱۰۰۔
[2] شرح مسلم للنووی،کتاب القدر ، باب الایمان للقدر ۔۔۔الخ، ۸ / ۲۱۵،الجزء السادس عشر ۔
[3] شرح الطیبی، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۴۰۸، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۱۵۴، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
[5] مرآۃ المناجیح، ۷ / ۱۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع